حیات شمس

by Other Authors

Page 365 of 748

حیات شمس — Page 365

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 349 کہ وہ صلیب پر نہیں بلکہ طبعی موت سے مرے اور ہماری تحقیقات کی رو سے صلیب سے بیچ کر کشمیر میں آئے اور وہیں وفات پائی چنانچہ ان کی قبر محلہ خانیار سرینگر کشمیر میں موجود ہے۔اس نے اپنی تقریر میں چونکہ یہ بھی کہا تھا کہ اناجیل میں لکھا ہے مسیح نے اپنی جان دے دی اس کا میں نے تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اناجیل میں ایسے اختلاف موجود ہیں جن کے درمیان مطابقت نہیں دی جاسکتی اور یقینی طور پر بعض بیانات غلط ہیں۔اس کیلئے میں اپنے مد مقابل کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ آئندہ 14 اگست کو اختلافات انا جیل پر مجھ سے مباحثہ کر لے لیکن اس چینج کا اس نے کچھ جواب نہ دیا۔پبلک پر اچھا اثر ہوا کئی حاضرین نے مجھ سے کہا کہ آپ کے دلائل زبر دست تھے اور اس کی سخت کلامی کی مذمت کی۔14 اگست کو میں نے انجیل سے اختلافات پیش کئے جن پر بعض نے سوالات کئے جن کے میں نے جوابات دیئے۔ایک اختلاف میں نے یہ پیش کیا تھا کہ مسیح نے جب اپنے بارہ شاگردوں کو تبلیغ کیلئے بھیجنا چاہا تو بعض ہدایات دیں۔متی کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اپنے ساتھ سونٹانہ لیں لیکن مرقس کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت دی تھی کہ وہ سوائے سونٹے کے اور کچھ نہ لیں۔یہ ایک صریح تناقض ہے جو کسی طرح نہیں اٹھ سکتا۔ہر ایک عقلمند یہی کہے گا دونوں میں سے ایک نے ضرور غلط بیانی کی ہے کیونکہ دونوں ایک ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ایک عورت نے کہا مثلاً جرمن کہتے ہیں کہ آج ہم نے برٹش کے سو ہوائی جہاز گرائے۔اس اختلاف سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔میں نے کہا میں واقعہ کا تو انکار نہیں کرتا میں تو صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ متی اور مرقس میں سے انگریز کون ہے اور جرمن کون ؟ کس نے خلاف واقعہ بیان دیا ہے۔میرے علم کے مطابق اس طرز کا مباحثہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پہلا مباحثہ ہوا۔خاکسار جلال الدین شمس از لنڈن۔(الفضل قادیان 17 اگست 1940ء) شاہ فیصل سے ملاقاتیں سعودی خاندان کا مسجد فضل لندن سے کسی نہ کسی طور پر 1924ء سے ایک قسم کا تعلق رہا ہے۔شاہ فیصل اگر چه با وجود وعده بوجوہ مسجد فضل لندن کے افتتاح کے موقعہ پر تشریف نہ لا سکے تاہم بعد میں گا ہے بگا ہے مسجد فضل لندن میں تشریف لاتے رہے۔حضرت مولا نائٹس صاحب نے شاہ فیصل جو اس وقت