حیات شمس

by Other Authors

Page 362 of 748

حیات شمس — Page 362

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 346 لندن پہنچے۔ایک غیر احمدی نوجوان جو لنڈن جیسے شہر میں آتا ہے نہ معلوم اس کے قلب میں کیا کیا خواہشات پیدا ہوتی ہوں گی اور کن بڑے بڑے مقامات یا تھیڑوں اور سینماؤں کے دیکھنے کی امنگ دل میں دیکھنے کی گدگدی پیدا کرتی ہوگی لیکن احمدی نوجوان کی نظر لنڈن کی عالیشان عمارتوں، تھیڑوں اور سینماؤں کے بوقلمانی محلات کو نظر انداز کرتی ہوئی مسجد لنڈن 63 میلر وز پر آٹھہرتی ہے تا وہ اس مسجد میں آکر جو اس ظلمت کدہ میں ایک غریب جماعت نے کوشش کر کے بنائی خدا کے حضور سجدہ شکر بجالائے اور نماز ادا کرے۔چنانچہ یہی پاکیزہ خواہش تھی جس نے ہمارے نوجوان محمد لطیف صاحب کو مجبور کیا کہ وہ اپنی قیام گاہ سے جو تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر ہے دوسرے روز ہی ہوائی حملوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسجد د یکھنے کیلئے تشریف لائیں۔اتفاقاً اس روز وانڈ زور تھ سیٹ فائر کمیٹی کی میٹنگ تھی اور میں اس کا ممبر ہونے کی وجہ سے میٹنگ میں گیا ہوا تھا اور انہیں وقت پر اپی قیامگاہ پر واپس پہنچنا تھا۔اس لئے وہ واپس چلے گئے۔میں نے انہیں خط لکھا لیکن وہ تیسرے روز خط پہنچنے سے پیشتر ہی دوبارہ تشریف لے آئے۔باز و پر انہیں ایک پھنسی نکلی ہوئی تھی لیکن کہنے لگے میں نے کسی کو بتایا نہیں ورنہ وہ مجھے آنے نہ دیتے۔پھر بعض احمدی بھائیوں سے ملے اور خوش ہوئے۔احمدی نوجوانوں کی ایسی خواہشات اس پاکیزہ روح کی علامت ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ جماعت کے نوجوانوں میں پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس نوجوان طیار کو ترقیات عطا فرمائے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔نئے احمدی مسٹر ٹی آر خورشا سلسلہ میں داخل ہوئے۔رائل ائر فورس میں ہیں۔فرانس کی جنگ میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔گزشتہ سال وہ احمدیت حقیقی اسلام ہے اور دوسری کتابیں لے گئے تھے۔جہاز میں پرواز کرتے ہوئے دشمن کی مشین گن سے زخمی بھی ہوئے اور ایک ماہ تک ہسپتال میں رہے۔جب وہاں سے نکلے تو مسجد آئے۔سکاٹ لینڈ سے میں وائٹ پال کا خط ملا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے مرسلہ کتب (احمدیت یعنی حقیقی اسلام اور تحفہ شہزادہ ویلز) کا بغور مطالعہ کیا اور میں کوئی وجہ نہیں دیکھتی کہ اسلام قبول نہ کروں چنانچہ انہوں نے بیعت فارم پر کر کے بھیجا ہے۔مس وائٹ پال ایک یو نیورسٹی کی طالب علم ہیں۔۔۔۔خاکسار جلال الدین شمس۔الفضل قادیان 18 دسمبر 1940ء)