حیات شمس

by Other Authors

Page 350 of 748

حیات شمس — Page 350

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 334 گئے تو انہوں نے اس خیال سے کہ کہیں بنی اسرائیل میں تفرقہ نہ پیدا ہو جائے سختی سے کام نہ لیا۔اگر وہ نبی ہوتے تو انہیں خدا کی طرف سے اس کا علم دے دیا جاتا پس وہ صرف رسول تھے نبی نہ تھے۔میں نے کہا اچھا تو آپ اس آیت کے متعلق کیا فرمائیں گے۔وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيَّاً (مريم : 54 ) کہنے لگے کیا یہ قرآن میں ہے؟ میں نے کہا ہاں موجود ہے لائیے قرآن میں آپ کو نکال دیتا ہوں۔پھر خاموش ہو گئے۔خاکسار جلال الدین شمس از لندن۔(الفضل قادیان 8 مئی 1939ء) مسجد احمد یہ لنڈن میں امن عالم کے متعلق مذہبی کا نفرنس کا انتظام گزشتہ دنوں [ مئی 1939ء] مسٹر رائن ایک آئرش کمانڈر I۔Dumply کولے کر آئے جن سے اسلامی اصول کے متعلق گفتگو ہوئی اور انہیں احمدیت“ اور ” احمد کتب مطالعہ کیلئے دی گئیں۔دوسرے روز مسٹر رائن اپنے ساتھ ایک فریج کو لائے۔اس نے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا ہے وہ لنڈن میں رہتے ہیں۔اس کے اور بھائی بھی ہیں اور والدہ بھی۔(۲) مسٹر کاوی دو دفعہ اردو کا سبق لینے کیلئے آئے وہ اکتوبر میں ہندوستان جائیں گے۔ان کے ساتھ مسٹر Slater بھی آئے۔وہ بھی آئی سی ایس ہیں۔ان کی تقرری بھی پنجاب میں ہو چکی ہے مگر دونوں کو ابھی مقام کا علم نہیں ہوا۔ان کو اردو کی مشق کرائی۔ان کے ساتھ مسٹر ٹیلر امریکن بھی تھے۔(۳) مسٹر پیسٹن کے والد نے جو سارجنٹ پولیس ہیں ایک خط میں ایک پونڈ بھیجا اور لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں کام کی وجہ سے مسجد نہیں آسکا لیکن میں مذہب اسلام کی اشاعت کیلئے بطور امداد ایک پونڈ بھیج رہا ہوں۔(۴) مسٹر دارا امام و وکنگ اور بعض اور ہندوستانیوں نے مل کر سر عبد القادر کو Criterion ریسٹورنٹ میں ڈنر دیا تھا۔وہاں سر عبد القادر اور دوسرے دوستوں سے ملاقات ہوئی ، ڈاکٹر یہودا اور مسز یہودا سے گفتگو ہوئی۔انہوں نے اگلے بدھ کو سر عبد القادر کوئی پارٹی دی ہے اور اخبارات کے نمائندوں میں سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندہ ، ہندو مدارس کے نمائندہ ، یونائیٹڈ پریس کے نمائندہ اور سٹیٹسمین کے نمائندہ سے گفتگو ہوئی۔کھانے سب انگریزی تھے۔میں نے سبزی کھائی اور گوشت نہ لیا اور کہا کہ میں ایسے ڈنروں میں ویجیٹیرین ہوتا ہوں کیونکہ یہ گوشت ہم نہیں کھاتے لیکن