حیات شمس — Page xxxix
xxxviii وجہ سے سرجری سے کاٹنی پڑی تھی۔وہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنی جان سے بیزار ہو چکے تھے لیکن ہمارے ابا جان حضرت مولانا شمس صاحب تھے جو انہیں با قاعدہ خط لکھا کرتے تھے اور ان کو تسلیاں دیا کرتے تھے اور ڈھارس بندھاتے تھے۔میں نے انہیں ابا جان کے بارہ میں چند سطور لکھنے کا کہا تھا اور پھر جب چند مرتبہ یاد دہانی کرائی تو کہنے لگے کہ ان کیلئے ممکن نہ ہو سکے گا کہ وہ ان کے بارہ میں تحریر کرسکیں کیونکہ جب بھی وہ لکھنے کا ارادہ کرتے ہیں ان کی یاد میں رونا شروع کر دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ابا جان بہت مصروف ہوا کرتے تھے گھر میں بھی دفتری کاموں کا انبار ہوتا تھا۔کئی مرتبہ مجھے بھی تربیت اور ٹرینگ کیلئے پروف ریڈنگ کے کام میں اپنے ساتھ بٹھا لیا کرتے تھے۔اس کے باوجود بہت سے احباب ایسے تھے جو تقریروں یا نظموں کی تیاری کے سلسلہ میں آپ کے پاس آیا کرتے تھے اور آپ خوشی سے ان کی مددفرماتے تھے۔انسان جب کسی سے لہی محبت اور ہمدردی کرتا ہے تو اسکا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جبکہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرائع نے اپریل 1998ء میں مجھے اور میری اہلیہ ریحانہ صاحبہ کو کہا بیر کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کیلئے اپنے نمائندہ کی حیثیت سے بھجوایا۔حیفا اور کہا بیر کی جماعتیں ابا جان کے ذریعہ شروع ہوئی تھیں۔مجھے اس بات کا اندازہ تو تھا ہی کہ وہاں کے احباب کو ابا جان کے ساتھ ایک فطری لگاؤ اور محبت ہوگی لیکن جو نظارہ ہم نے وہاں اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کا تصور نہیں تھا۔جب ہم تل ابیب ائر پورٹ سے بذریعہ کار کہا بیر پہنچے تو مسجد اور مشن ہاؤس کے باہر احباب و خواتین کو قطاروں میں کھڑے پایا۔ان میں بچے بھی تھے، جو ان بھی تھے اور بوڑھے بھی۔احباب میرے ساتھ اور خواتین میری اہلیہ کے ساتھ گلے لگ کر زار و قطار روتے تھے۔یہ سلسلہ احمدیہ سے وہی جذ بہ وفا و محبت تھا جو انہیں ان کے بزرگوں نے ابا جان کی وساطت سے خلافت کیلئے منتقل کیا تھا۔احباب سے ملاقاتوں کے ذریعہ انہوں نے بتایا کہ انکے آباؤ اجداد انہیں ہمارے ابا جان کے متعلق جس پیار اور خلوص اور محبت کی داستانیں سنایا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ وہ ان کے گھر کے ایک فرد کی طرح تھے، اس وجہ سے ان سب کے دلوں میں ہمارے لئے بھی بے پناہ پیار و محبت اور اخوت کے جذبات ہیں۔میری بیٹی عزیزہ ھالہ چند سال قبل جب کہا بیر گئی تو وہاں خواتین نے اسے بتایا کہ آپ لوگ اُس محبت اور پیار اور خلوص اور اخوت کے جذبات کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے جو آپ کے دادا جان کی وجہ سے ہم سب کے دلوں میں آپ کیلئے ہیں۔بہت سے احباب اور بالخصوص سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع حضرت ابا جان کے حالات زندگی جمع