حیات شمس — Page 339
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 323 جماعت کو دی جس کے ذریعہ اس کا منشاء ہے کہ دنیا کے کونوں میں اسلام کا نور چمکے۔اس میں ہر ایک کو فَاخْلَعْ نَعْلَيْک کے مطابق جوتی اتار کر اندر جانا پڑتا ہے۔اس میں باقاعدہ جمعہ کی نماز ہوتی ہے اور عید کی نماز بھی اسی میں ادا کی جاتی ہے۔اس دفعہ یہاں چار مقامات پر عید الفطر کی نماز ہوئی۔ایک دوکنگ میں۔دوسرے مصریوں نے جو پہلے دو کنگ جا کر عید کی نماز ادا کیا کرتے تھے اس مرتبہ علیحدہ مصری کلب میں عید کی نماز ادا کی۔تیسرے جمعیتہ السلمین نے جو ہندوستان کے عام مسلمانوں پر مشتمل ہے ایک ہال میں نماز ادا کی۔باوجود یکہ وہ کنگ والے بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا احمدیت سے کوئی بھی تعلق نہیں پیغامیوں کا بھی اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور وہ ان سے بھی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے مسلمان عید کی نماز ان کے ساتھ نہیں ادا کرتے۔مسجد فضل لنڈن میں 24 نومبر کو ہم نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔پچاس کے قریب حاضری ہو گئی تھی جن میں بعض زیر تبلیغ انگریز بھی تھے اور کچھ غیر احمدی بھی شامل ہوئے۔بعض نو مسلم بوجہ کام کا دن ہونے کے حاضر نہ ہو سکے۔عید کی نماز کے بعد سب کو ہندوستانی کھانا کھلایا گیا۔بعض دوست سارادن مسجد میں رہے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کرتے رہے۔سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ دوسری تقریب جو قابل ذکر ہے وہ سیرت النبی ﷺ کا جلسہ ہے۔یہ جلسہ لندن کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کامیاب رہا۔یہاں کے اخبار ساؤتھ ویسٹرن سٹار نے جس کی اشاعت تقریباً چالیس ہزار ہے اس کی رپورٹ لکھی اور اخبار کے درمیانی صفحہ میں جگہ دی جس میں نہایت اہم واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔اسی طرح لنڈن کے ایک مشہور ہفتہ وار رسالہ ” گریٹ برٹن اینڈ دی ایسٹ“ نے دو جلی عنوان دے کر اس جلسہ کی رپورٹ شائع کی۔جماعت کے دو ممبروں کو جو Worthing میں رہتے ہیں ملنے کیلئے گیا۔ان سے حالات جماعت کے متعلق گفتگو کی اور ایک دفعہ کیمبرج گیا جہاں یونیورسٹی کے بعض طلباء سے ملاقات ہوئی۔(۱) عید الفطر کے روز شام کے قریب نائب امام و وکنگ اور سید عبداللہ پی ایچ ڈی لائل پور اور سید عبدالحمید شاہ اور ڈاکٹر ایچ قادر خان ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ میسور تشریف لائے۔یہود کے متعلق جو قرآن مجید میں پیشگوئیاں ہیں ان کے دریافت کرنے پر تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ باوجود یکہ یہ قوم سب سے زیادہ دولت مند