حیات شمس

by Other Authors

Page 326 of 748

حیات شمس — Page 326

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 310 ہندوستان کو روانگی کے موقع پر آپ کی خدمت میں الوداعی ایڈریس پیش کرتے ہیں۔یہ موقعہ ہمارے لئے اس وجہ سے موجب خوشی ہے کہ آپ جس مقصد کے حصول کیلئے یہاں آئے تھے اسے حاصل کرنے کے بعد کامیاب و کامران اپنے وطن جا رہے ہیں۔آپ یہاں اس لئے آئے تھے کہ مغرب کے بہترین دماغوں کے خیالات و افکار کا براہ راست علم حاصل کریں اور برطانیہ کی اول درجہ کی یونیورسٹیوں میں سے ایک میں چار سال تک مطالعہ کر کے اس مقصد کے حصول کیلئے آپ نے اس موقعہ سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے جہاں آپ کو مغرب کے فضلاء کے ساتھ براہ راست میل جول کے مواقع اکثر ملتے رہے ہیں۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ نے اپنے مطالعہ کو یو نیورسٹی تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دوسرے ممالک اور مغرب کے دوسرے تعلیمی مراکز کی سیاحت کا جو بھی موقعہ آپ کو ملا اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر اپنے دامن علم کو مالا مال کر نیکی کوشش کی ہے اور اس طرح آپ نے مغرب کے سوشل، پولیٹیکل ، اقتصادی اور مذہبی سوالات کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔مغربی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق آپ نے جو وسیع معلومات حاصل کی ہیں اور مغربی اقوام کے مخصوص کیریکٹر کے متعلق جو وسعت نظر آپ نے پیدا کی ہے اور ان کی مجالس وغیرہ کے متعلق جو واقفیت بہم پہنچائی ہے وہ ہمیں یقین ہے کہ ان عظیم الشان فرائض کی بجا آواری میں آپ کیلئے بہت ممد و معاون ہوگی جو مستقبل قریب میں آپ کے سپر د ہونے والے ہیں۔علاوہ ازیں اس موقعہ سے آپ نے ایک اور فائدہ بھی اٹھایا ہے یعنی انگریزی میں پروفیشنسی (Proficiency) حاصل کرنے کے علاوہ آپ نے یورپ میں ایک اور اہم زبان یعنی جرمن کا بھی خاص طور پر مطالعہ کیا ہے جو نہ صرف یہ کہ آپ کے معلومات میں مغرب کے بڑے بڑے لیڈروں کے آراء و افکار کے اضافہ کا موجب ہوگی بلکہ آپ کو ان لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں اپیل کرنے کے قابل بنا دے گی۔ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے یہاں پر قیام کے دوران میں اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا ہے اور دور حاضر کے تمام دنیا کے راہنما حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک قابل قدر فرزند کی حیثیت سے آپ کے سامنے جو عظیم الشان کام ہے اس کیلئے بخوبی تیار ہو کر واپس جارہے ہیں ہمیں علم ہے کہ آپ یہاں کسی نئی صداقت کی تلاش میں نہیں آئے تھے بلکہ اس غرض سے مغرب کا مطالعہ کرنے آئے تھے تاکہ ان لوگوں کو صداقت کے سرچشمہ کی طرف لانے کے طریق اور ذرائع معلوم کر سکیں۔ہم یورپ میں آپ کی آمد کو یہاں کے لوگوں کیلئے ایک نیک فال سمجھتے ہیں۔ان ممالک میں آپ کی آمد بتاتی ہے کہ مغربی اقوام کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی بھلائی چاہتا ہے