حیات شمس — Page 321
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 305 کے ارادہ اور منشاء کے ماتحت تیار ہوئی اور جس کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا۔اِصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا [ تذکرہ بار چهارم، صفحہ 409] کہ تم اپنی جماعت کیلئے ہماری حفاظت میں اور ہماری وحی کے ماتحت ایک گشتی تیار کرو جو اسے ان تمام آفات اور طوفان ضلالت اور مصائب سے جو دنیا کو پیش آنے والی ہیں نجات دیگی اور تیری جماعت کو قیامت تک دلائل و براہین کی رو سے دنیا کے تمام مذاہب اور تمام جماعتوں پر غلبہ بخشا جائے گا۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی ترقی واشاعت کیلئے بہت سے وعدے کئے ہیں جو پورے ہو کر رہیں گے۔لیکن ایسے وعدوں کے ایفاء میں تاخیر کی وجہ بعض اوقات جماعت کی سستی بھی ہو جاتی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ہوا۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ استغفار میں لگی رہے اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتی ہوئی جس قدر سلسلہ کیلئے ممکن قربانیاں کر سکتی ہو کرنے سے دریغ نہ کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اَلَا إِن نَصْرَ اللهِ قَرِيْبٌ کی بشارت سن لے۔میں اپنی رپورٹوں میں وقتاً فوقتاً دوستوں سے دعا کیلئے درخواست کرتا رہا ہوں کہ وہ یہاں احمدیت کی اشاعت کیلئے اللہ تعالیٰ سے درد دل کے ساتھ دعائیں مانگتے رہیں۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہماری ظاہری کوششوں کی مثال اس دنیائے مادیت کے مرکز میں تحریکات شیطانیہ اور مخالفین اسلام کی کوششوں کے مقابلہ میں بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص میلوں بڑے تالاب میں تلاطم پیدا کرنے کیلئے اس کے ایک کونہ پر بیٹھا ہوا اپنے ہاتھ سے پانی ہلا رہا ہو۔ایسی حالت میں اس تالاب میں تلاطم پیدا کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی' (الانفال:18) کی حالت کا میسر آنا ہے۔پس اگر ہم چاہیں کہ ظاہری اسباب سے مقابلہ کیا جائے تو ہمارے پاس وہ نہیں ہیں جو ہمارے مخالفوں کے پاس ہیں البتہ ہمارے پاس ایک نہایت مؤثر اور کارگر اور بے خطا جانے والا ہتھیار ہے جو دوسروں کے پاس نہیں اور وہ دعا کا ہتھیار ہے جس کے متعلق حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔غیر ممکن کو ممکن میں بدل دیتی ہے اے مرے فلسفيو زور دعا دیکھو تو اس لئے میں تمام دوستوں سے دعا کیلئے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ یہاں سلسلہ کی اشاعت کیلئے درد دل سے دعائیں کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ وقت آجائے کہ سعید روحیں حق کو قبول کر لیں۔