حیات شمس — Page 320
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 304 مسٹر مسعود احمد صاحب، چوہدری دولت خان صاحب، چوہدری اکبر علی ، شیخ محمود احمد صاحب وغیرہ نے غیر احمدیوں کو تبلیغ کی اور دار التبلیغ میں چوہدری نصیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کارناموں پر تقریر کی جس میں آپ نے نہایت عمدہ پیرایہ میں مندرجہ ذیل امور پر خصوصیت سے روشنی ڈالی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی غرض۔قرآن مجید کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ۔نشان نمائی۔تعلق باللہ۔پھر الہام اور وحی کے متعلق آپ کا دعویٰ پیش کیا۔17 اکتوبر کو ہمارے نو مسلم بھائی مسٹرلطیف آرنلڈ نے اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ کرتے ہوئے تو حید و تثلیث اور قرآن مجید اور انجیل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح کے متعلق خاص طور پر ذکر کیا اور اسلامی عقائد اور رسول کی عیسائی عقائد پر برتری ثابت کی۔24 اکتوبر کو خاکسار نے اس موضوع پر پرچہ پڑھا کہ ابتدائی عیسائیوں نے مسیح کی صلیبی موت کو کیوں مانا۔یہ تمام اجلاس زیر صدارت مولانا درد صاحب ہوئے جنہوں نے ہر اجلاس کے خاتمہ سے پہلے موضوع متعلقہ پر مختصر سی تقریر فرمائی۔۔۔۔خاکسار جلال الدین شمس۔$ 1938 (الفضل قادیان یکم دسمبر 1937) ( حضرت مولانا جلال الدین شمس) اقوام کی پستی و بلندی اور عروج و تنزل کی بنیا دوہ خیالات اور افکار ہوتے ہیں جو ان کے افراد کے دل ودماغ میں پائے جاتے ہیں۔جب کسی قوم کے عروج کا زمانہ آتا ہے تو اس کے افراد کے دلوں میں ترقی کی امنگیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور ان کے دماغوں میں ایسے افکار موجزن ہوتے ہیں جو اس قوم میں ترقی کی روح پھونکنے والے ہوتے ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہماری ترقی کے راستہ میں دنیا کی کوئی قوم حائل نہیں ہو سکتی۔لیکن جب کسی قوم کی پستی اور تنزل کا وقت آتا ہے تو اس کے افراد ہمتیں ہار بیٹھتے ہیں اور یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ترقی کے تمام دروازے انہیں مسدود دکھائی دیتے ہیں اور آخر کار نا امیدی و مایوسی ان کی تباہی کا باعث ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : من قال هلكت الناس فهو اهلکھم جو شخص یہ کہتا ہے کہ لوگ مر گئے ، تباہ ہو گئے ایسا خیال پیدا کرنے والا ہی درحقیقت ان کی تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ہماری جماعت جو خدا تعالیٰ ہو۔