حیات شمس — Page 312
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 296 پرائیویٹ سیکرٹری اسی مضمون کا پہنچا اور میں سمجھتا ہوں کہ حضور کی یہ توجہ مبارک کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مسٹر آرنلڈ اور مسز آرنلڈ کو دار التبلیغ میں آنے کیلئے القا کیا۔چنانچہ وہ بغیر ہماری کسی تحریک کے خود ہی تشریف لائے اور جب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد پہنچا تو اس کے چار پانچ روز بعد وہ سلسلہ احمدیت میں داخل ہو گئے اور مسٹر آرنلڈ بھی انگریزی سپینش ، فرانسیسی ، کیٹلان زبانیں اچھی طرح جانتے ہیں۔اب وہ اردو زبان سیکھ رہے ہیں لیکن جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسٹر آرنلڈ کے بھائی اور والدہ کو بھی قبولیت اسلام کی توفیق عنایت فرما دی ہے اور یہ حقیقۂ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہات روحانیہ کا نتیجہ ہے۔۔۔۔خاکسار جلال الدین شمس از لنڈن۔الفضل قادیان 3 اگست 1937 ء) ورلڈ فیلوشپ آف فیتھس کے جلسہ میں احمدی معززین کی تقرریں (جولائی 1937ء) حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی تقریر WolrdfellowshipofFaiths کے لیکچروں کا سلسلہ 7 جولائی سے شروع ہوا اور 17 جولائی کو ختم ہوا۔حاضری پانچ چھ سو کے درمیان تھی۔میٹنگ کا افتتاح اذان کے ساتھ ہوا جو میں نے دی اور مکرمی درد صاحب نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا پیغام حضور کی کتاب ” احمدیت“ کے اقتباس سے پڑھ کر سنایا اور بعض اور لوگوں کے پیغامات سنائے جانے کے بعد آنریبل سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب کا لیکچر شروع ہوا۔آپ نے اپنی تقریر میں Wolrd FellowshipofFaiths کی مساعی پر جو وہ مختلف مذاہب اور قوموں کے درمیان امن و اخوت پیدا کرنے کیلئے کر رہی ہے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا صرف اتنی بات انسان کیلئے کافی نہیں ہے بلکہ حقیقی امن انسان کو اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جبکہ اس کا دل اور اس کی ضمیر مطمئن ہو اور حقیقی اطمینان قلب اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اس کا اپنے خالق سے تعلق پیدا ہو اس لئے Wolrd FellowshipofFaiths کا موجودہ اغراض کے حصول پر اکتفا کر لینا کافی نہیں بلکہ اس سے آگے صحیح مذہب کی تلاش کیلئے قدم اٹھانا چاہیے۔۔۔۔آپ کی تقریر کو حاضرین نے بہت پسند کیا۔