حیات شمس

by Other Authors

Page 313 of 748

حیات شمس — Page 313

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی تقریر 297 14 جولائی کو کرمی در دصاحب کا لیکچر معابد یعنی مسجدوں اور گرجوں کے ذریعہ دنیا میں امن کیونکر قائم کیا جاسکتا ہے“ کے موضوع پر ہوا۔آپ نے اس کے متعلق اسلام کی اس روادارانہ تعلیم کا ذکر کیا کہ اسلام اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو وہ مسجد میں آکر کر سکتا ہے بشرطیکہ فتنہ پرداز نہ ہو۔اگر تمام مذاہب والے اپنے معابد کے متعلق ایسی رواداری دکھلائیں تو مذہبی لحاظ سے جو مختلف مذاہب کے درمیان تنافر پایا جاتا ہے وہ بہت حد تک دور ہو سکتا ہے۔اسی طرح آپ نے درستی اخلاق اور کمزور لوگوں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور سود کے مضرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے ذریعہ بھی دنیا کا امن برباد ہوتا ہے اور جنگیں ہوتی ہیں نیز فرمایا کہ اصل چیز تو روح ہے۔جب تک روح کی صفائی نہ ہو اور اس کیلئے پاک غذا مہیا نہ کی جائے نہ انسان کو اطمینان قلب حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی امن دنیا میں قائم ہو سکتا ہے اس لئے جب تک لوگ روحانی ریفارمر کے بتائے ہوئے طریق پر عمل نہیں کریں گے حقیقی امن دنیا میں قائم نہیں ہوگا۔احمدی دوستوں کی مذہبی معلومات میں وسعت پیدا کرنے کیلئے ماہ مئی سے دار التبلیغ میں لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔پروگرام چھپوا کر اپنے دوستوں کے علاوہ دوسروں کو بھی بذریعہ ڈاک بھیجا گیا۔اس وقت تک مندرجہ ذیل دوستوں کے لیکچر ہو چکے ہیں۔9 مئی کو ڈاکٹر سلیمان صاحب نے ہستی باری تعالیٰ پر اور 23 مئی کو مسٹرلطیف آرنلڈ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بائبل میں پیشگوئیاں کے موضوع پر ، 30 مئی کو تحریک جدید کے مطالبات پر مختلف دوستوں نے اور 6 جون کو مسٹر مبارک احمد صاحب فیولنگ نے جہاد پر 27 جون کو مرزا مظفر احمد صاحب بی۔اے آنرز نے اسلامی طرز حکومت پر۔4 جولائی کو خاکسار نے ” حضرت مسیح صلیب پر نہیں مرے“ کے موضوع پر۔گیارہ جولائی کو مسٹر مسعود احمد نے ” باغ عدن پر اور 25 جولائی کو مٹر افتخار الحق خان صاحب ایم اے نے ”سوڈ پر لیکچر دیا۔ہر لیکچر کے بعد سوال و جواب ہوتے رہے۔تمام اجلاس زیر صدارت مولانا در دصاحب منعقد ہوئے اور ہر لیکچر پر سوال و جواب کے اختتام پر آپ مختصر تقریر کرتے رہے۔سیکرٹری شپ کے فرائض مرزا مظفر احمد صاحب بی۔اے آنرز نے سرانجام دیئے اور جس اتوار کو لیکچر نہ ہوا اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں سے بعض مقامات سنائے گئے۔