حیات شمس — Page 303
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 287 کے اطلاع دینے پر کہ دیا کہ کون ہے میری ماں اور کون ہے میرے بھائی ؟ اور ان کے پاس جا کر دریافت نہ کیا کہ کیا بات ہے۔اور یوحنا 4:2 میں اپنی والدہ کو ڈانٹ کے رنگ میں صرف اے عورت کہہ کر خطاب کیا۔اور پھر تعلیم یہ دی کہ دشمن سے محبت اور بغض کرنے والوں سے احسان کرو ( متی 40:5) مگر ایک دیہہ والوں کے دو ہزار خنزیر شریر ارواح کو انہیں داخل ہونے کی اجازت دے کر ہلاک کر دیا۔پھر تا مارجس کے خسر نے اس سے زنا کیا اور اس سے جو بچہ پیدا ہو ا یسوع مسیح کے نسب نامہ میں متی نے بیان کیا ہے۔جب ایسے تمام حوالے پڑھ چکے تو میں نے کہا کیا ایسا انسان خدا تو کجا بزرگ مانا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے قرآن مجید سے مسیح علیہ السلام کے جو حوالہ جات دکھائے اور کہا کہ یہ تو قرآن مجید کا احسان ہے کہ اس نے انہیں نبی اور رسول کہہ دیا ورنہ انجیل سے تو وہ بزرگ بھی ثابت نہیں ہو سکتے۔اور پھر بلا باپ ولادت وغیرہ کے متعلق انہوں نے سوالات کیے جن کے جوابات دیے آخر میں انہوں نے کہا کہ واقعی مسیح کو خدا ماننا درست نہیں ہے۔اسلام اور عیسائیت میں عورت کا درجہ عورتوں کے حقوق کے متعلق جب سوال آیا تو انہوں نے کہا کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورتوں میں روح نہیں ہے۔میں نے کہا اسلام کی تعلیم تو میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے نئے عہد نامہ سے عورت کا درجہ بتا تا ہوں۔1 کرنتھیوں 3:11 تا10 میں لکھا ہے: ہر مرد کا سر مسیح لیکن عورت کا سر مرد ہے مسیح کا سر خدا ہے اور یہ کہ آدمی اللہ کی صورت اور اس کی بزرگی ہے لیکن عورت آدمی کی بزرگی ہے کیونکہ مرد عورت سے نہیں بلکہ عورت مرد سے ہے اور مرد عورت کی خاطر نہیں بلکہ عورت مرد کی خاطر پیدا ہوئی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ عورت مرد کی مساوی نہیں بلکہ جیسے مرد کے لیے دنیا میں اور بہت سی چیزیں پیدا کی گئی ہے ویسے ہی عورت اس کی خاطر پیدا کی گئی ہیں۔پھر 1 کرنتھیوں 34:14-35 میں ہے کہ عورتوں کو گرجا میں خاموش رہنا چاہیے اگر وہ کوئی چیز سکھانا چاہتی ہیں تو وہ گھروں میں اپنے خاوندوں سے دریافت کریں کیونکہ عورت کیلئے گرجا میں بولنا باعث شرم ہے اور پھر تمطاؤس باب 2 آیات 12-14 میں لکھا ہے پولوس کہتا ہے میں عورت کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ سکھائے اور معلمہ بنے اور آدم گمراہ نہیں ہوا بلکہ عورت تھی جو اصل میں گمراہ ہوئی اور ایوب 4:25 میں عورت کو نا پاک قرار دیا گیا