حیات شمس

by Other Authors

Page 285 of 748

حیات شمس — Page 285

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس لنڈن میں نیا تبلیغی پروگرام 269 ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) ایک نیا تبلیغی پروگرام تیار کیا گیا ہے۔اس پروگرام کے مطابق پہلا اجلاس 17 مئی 1936ء کو تھا۔اس میں مولا نا در دصاحب نے اس موضوع پر لیکچر دیا کہ عورت کا اسلام میں کیا درجہ ہے؟ آپ نے اس لیکچر میں پرانی مصری اور رومن تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں عورت کو مرد پر بہت سے اختیارات دیئے گئے تھے لیکن اسلام نے جو درجہ عورت کا بتایا ہے وہی صحیح ہے اور اسی میں نسل انسانی کی بہتری و بهبودی مضمر ہے اور چونکہ عام طور پر یہاں جب بھی لیکچر دیئے گئے تو ان میں عورتوں سے نرمی کے برتاؤ کے پہلوکو پیش کیا گیا اس لئے آپ نے دوسرے پہلو کو جس میں مرد کو عورت پر بعض اختیارات دیئے گئے تھے پیش کیا مثلاً ورثہ، تعدد ازداج اور عند الضرورت اصلاح کی خاطر عورت پر معمولی سختی کرنا اور کہا کہ میں صرف ان امور کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہوئے انہیں تشنہ فصیل چھوڑتا ہوں تا آپ کے دماغ میں جو اعتراض اٹھ سکتے ہیں وہ آپ پیش کریں۔چنانچہ ان کے لیکچر کے اختتام پر دوستوں نے بہت سے اعتراضات کئے جن کے جوابات در دصاحب اور میاں مظفر احمد صاحب اور ملک افتخار احمد صاحب نے دیئے۔ایک انگریز کا قبول اسلام اس لیکچر میں پورٹ سمتھ سے ایک انگریز ای جی براملی نامی بھی آئے تھے۔لیکچر سننے کے بعد انہوں نے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتاب ” احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا ایک نسخہ خریدا اور وعدہ کیا کہ وہ اسے ضرور پڑھیں گے۔بعض اور پمفلٹ بھی انہیں دیئے گئے چنانچہ چند روز کے بعد انہوں نے بیعت فارم پر کر کے بھیج دیا۔دوستوں سے ان کی استقامت کیلئے دعا کی درخواست ہے۔ہر جمعرات کو ہائیڈ پارک میں لیکچر ہوتا ہے۔دو لیکچر میر عبدالسلام صاحب نے دیئے ہیں۔لیکچروں کے دوران میں ہی سوالات شروع ہو جاتے ہیں اور یہ سوال وجواب کا سلسلہ رات کے بارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔گزشتہ جمعرات کو جب میں اور برادرم شیخ احمد اللہ صاحب اور برادرم عبدالعزیز صاحب وہاں گئے تو ایک پادری سے گفتگو شروع ہوگئی۔میں اردو میں بولتا تھا اور شیخ احمد اللہ صاحب انگریزی میں ترجمہ کرتے تھے۔پگڑیوں کو دیکھ کر چالیس پچاس کے قریب اشخاص ہمارے ارد گرد جمع ہو گئے اور میرے