حیات شمس

by Other Authors

Page xxxiii of 748

حیات شمس — Page xxxiii

xxxii چنانچہ میں نے انہیں بتا دیا اور کمرہ سے باہر چلا گیا۔آپ نے اس میں تقریباً نہیں منٹ لمبا پیغام دیا اور شروع میں کہا کہ یہ میری نصیحت ہی نہیں بلکہ وصیت سمجھی جائے اور یہ حقیقت میں ان کی آخری وصیت ہی ثابت ہوئی کیونکہ تین ماہ کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔آپ نے اس میں پہلی نصیحت یہ کی کہ قرآن شریف سے محبت رکھو کہ اس میں تمام کامیابیوں کی کنجی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب فتح اسلام کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن ہی ہمارا کعبہ ہے۔دوسری بڑی نصیحت یہ کی کہ خلافت احمدیہ سے وابستہ رہو۔جب بھی کوئی نیا خلیفہ چنا جائے یہ تمہارا کام نہیں ہے کہ کون چنا گیا اور کیوں۔تمہارا کام صرف یہ ہے کہ اس کی بیعت کرو اور اس کی اطاعت میں آجاؤ۔اس کے علاوہ نمازیں ادا کرنے کی تلقین کی اور ایک دو زاتی نصیحتیں بھی کیں۔اسی پیغام میں آپ نے ذکر کیا کہ آپ کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ آپ امریکہ گئے ہیں اور آپ نے کہا کہ کئی خواہیں بیٹوں کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہیں۔شاید یہی وجہ تھی کہ مجھے امریکہ آنے کی اجازت دی ورنہ آپ کے کئی دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر میں امریکہ نہیں بھجوانا چاہئے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات کو پیش نظر رکھتے تھے اور ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ ان کو پورا کرسکیں۔انہی میں سے ایک خواہش یہ تھی کہ عیسائیوں میں ایک لاکھ کی تعداد میں اشتہار تقسیم کئے جائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور آپ کی قبر کشمیر میں ہے۔چنانچہ اس خواہش کو والد صاحب نے قیام لندن میں پورا کیا۔آپ نے ایک لاکھ اشتہار چھپوایا اور پھر لندن کی گلیوں میں تقسیم کروایا۔اس وقت آپ کے پاس مبلغین کا ایک گروپ بھجوایا گیا تھا جو چھ ماہ بعد باقی یورپ کے ملکوں میں جانے والے تھے۔چنانچہ آپ نے ان کی مدد سے اس اشتہار کی تقسیم کا یہ اہم کارنامہ سرانجام دیا اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کیا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی سے پر ہیز کے لئے ہت تلقین فرمائی ہے بلکہ یہاں تک فرما دیا کہ اگر یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو وہ اسے ضرور حرام قرار دیتے۔اس خواہش کے مطابق والد صاحب نے ایک خاص مہم سگریٹ کے خلاف چلائی۔ربوہ میں جگہ جگہ بورڈ لگائے گئے جن پر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات تھے کہ حقہ نوشی سے پر ہیز کرو اور پھر ربوہ میں سگریٹ بیچنے پر بھی پابندی عائد کروائی۔مجھے ذاتی طور پر علم ہے ایک دو دکاندار چھپ کر سگریٹ بیچتے تھے۔ان کو آپ نے بلایا اور ان کو پیار سے سمجھایا کہ یہ کام درست نہیں