حیات شمس — Page 266
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 250 کشمیر کے مصیبت زدہ مسلمانوں کو قانونی امداد سے محروم کیا جارہا ہے اس عنوان کے تحت حضرت شمس کا شمیری برائے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایک مضمون لکھا جس میں اہل کشمیر کے مظلومین کی امداد کیلئے اپیل کی گئی۔(دیکھئے افضل قادیان مورخہ 6 مارچ1932ء) آل انڈیا کشمیری کمیٹی کے ایک معزز کارکن کا کشمیر سے اخراج حضرت شمس کا شمیری برائے سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی لکھتے ہیں : ریاست کشمیر میں جو شورش اور بدامنی پیدا ہو رہی ہے اس کی حقیقی وجہ وہ نا انصافی ہے جو اس وقت تک ریاست نے مسلمانوں سے روا رکھی ہے۔تا حال نہ صرف اُن کے نہایت معقول اور ابتدائی انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے مطالبات پورے نہیں کئے گئے اور طرح طرح کے بہانوں سے انہیں معرض التواء میں ڈالا جارہا ہے بلکہ اس سلسلہ میں بے حد تشدد بھی جاری ہے اور ادنی ادنی با توں بلکہ بعض اوقات بالکل بے بنیاد باتوں پر مسلمانوں کو سنگین سزائیں دی جاتی ہیں لیکن دوسری طرف ریاست کے ہندو اور سکھ جو چاہیں کریں انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے شروع دن سے ہی اپنے محترم صدر اور ممبران کے ذریعہ اس امر کی کوشش کی ہے کہ ریاست کا امن مخدوش نہ ہو اور بغیر کسی قسم کی شورش اور فساد کے مسلمانوں کو انکے جائز حقوق مل جائیں۔چنانچہ اس وقت بھی جبکہ ریاست انتہائی سفا کی اور وحشت سے کام لیتے ہوئے علاقہ راجوری اور میر پور وغیرہ میں مسلمانوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔یہ اسی کمیٹی کے کارکنوں کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ علاقہ کشمیر میں جسے کشمیر وادی کہنا چاہیئے۔کسی قسم کی بدامنی پیدا نہ ہوئی حتی کہ مسلمانانِ کشمیر کے مسلمہ اور معتدل خیال لیڈر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے حکومت کشمیر کو یہ یقین بھی دلا دیا کہ وہاں سول نافرمانی شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں۔یہ دراصل اس جدو جہد کا اثر تھا جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے کارکن قیام امن کیلئے وہاں کر رہے تھے۔صوبہ جموں میں بھی جہاں کے حالات نزاکت اختیار کر چکے ہیں اور مسلمانوں کیلئے صبر و برداشت سے کام لینا ناممکن کر دیا گیا ہے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے معزز ارکان اب بھی اس کوشش میں مشغول ہیں کہ جس طرح بھی ہو امن قائم ہو جائے لیکن ریاست کی بے تدبیری اور کوتاہ اندیشی اور مخفی چالبازیوں کا یہ عالم ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام امن کی کوششوں میں بھی روڑے اٹکا رہی ہے اور اس کے کارکنوں کے ساتھ نہایت افسوسناک سلوک کر رہی ہے۔