حیات شمس

by Other Authors

Page 260 of 748

حیات شمس — Page 260

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ خلافت کی برکات ہی ہیں جن کے ماتحت ایک جماعت نہایت آسانی کے ساتھ ترقی کر سکتی ہے۔ہمیں جو کچھ وہاں ( بلاد عر بیہ میں ) کامیابی حاصل ہوئی وہ در اصل اسی وابستگی کا نتیجہ ہے۔مجھے پر اس کا اظہار جوخلیفہ کا جماعت سے ہوتا ہے اس واقعہ سے خاص طور پر ہو اجب میں زخمی ہوا اور حکومت دمشق نے مجھے وہاں سے نکل جانے کا حکم دیدیا۔اس وقت مجھے 48 گھنٹے کا نوٹس ملا تھا اگر چہ بعد میں دس دن کی میعاد بڑھادی گئی۔جب میں وہاں سے آنے لگا تو تمام دوست جمع ہوئے اور میں انہیں نصائح کرنے لگا۔اس وقت مجھ پر ایک ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں زیادہ بول نہ سکا۔یہاں تک کہ بقیہ لکھی ہوئی نصائح میں نے منیر الحصنی آفندی کو دیں اور انہوں نے پڑھ کر سنا ئیں۔اس وقت میں نے انہیں کہا۔ان مثلى و مثلكم هذا الموقف الوهيب كمثل ام رؤم لها صبية صغار تحبهم من صميم فؤادها فاجبرت فجأة للانفصال عنهم۔یعنی میری اور تمہاری مثال اس وقت ایک نہایت ہی شفیق ماں کی سی ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے مگر اسے جبر اعلیحدہ کر دیا گیا۔244 میری اس جدائی کا ان پر بھی اثر تھا اور میں نے دیکھا کہ ان پر رقت طاری ہوگئی۔اس وقت مجھے پر ظاہر ہوا کہ جب میں جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک ادنیٰ خادم ہوں ان لوگوں سے جو میرے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوئے اس قدر محبت رکھتا ہوں تو خلیفہ کو اپنی جماعت سے کس قدرمحبت ہوگی۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خدام سے جس قدر محبت رکھتے ہیں اس کی مثال بھی میں نے دیکھ لی جب میرے زخمی ہونے کا یہاں تار آیا تو نہایت شفقت اور محبت سے میرے لئے دعائیں کی گئیں۔۔پھر مبلغ کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ہرامر میں خلیفہ وقت سے مشورہ لے مجھے دمشق سے نکلتے وقت 48 گھنٹے کی مہلت ملی تھی۔اس وقت میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بذریعہ تار دریافت کیا کہ میں اب کہاں جاؤں عراق یا فلسطین کو۔آپ نے فرمایا حیفا چلے جاؤ۔اس وقت میرا رجحان عراق کی طرف جانے کا تھا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ