حیات شمس — Page 259
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس تبلیغ احمدیت کے متعلق مفید تجربات 243 طلباء مدرسه و جامعہ احمدیہ سے خطاب 1932ء) حضرت مولانا شمس صاحب کی بلاد عر بیہ سے واپسی کے چند ماہ بعد 1932ء میں آپ کے اعزاز میں طلباء مدرسہ و جامعہ احمدیہ نے ایک ٹی پارٹی کا انتظام کیا۔طلباء کے ایڈریس کے جواب میں آپ نے حسب ذیل خطاب کیا: سیدی ومولا کی حضرت خلیفہ مسیح اثنی ایده الله بصرہ العزیز برادران طلباء جامع اور مدرسه احمدیہ نے جن جذبات و احساسات کا اپنے ایڈریس اور نظموں میں اظہار کیا ہے میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور دوسرے تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ میری اور مولوی اللہ دتا صاحب کی ترقیات روحانی کیلئے جو میری جگہ مشن کا کام چلا رہے ہیں، درد دل سے دعا فرمائی جائے۔میرے بھائیوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے سامنے اپنے تبلیغی تجربات کا اظہار کروں کیونکہ خدا کے فضل سے وہ بھی مبلغ بننے والے ہیں۔خلافت سے وابستگی سو میں جو کچھ حاصل کر سکا ہوں اس کے ماتحت کہہ سکتا ہوں کہ تبلیغی لحاظ سے ہر ایک مبلغ کو یہ امر اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اسے کسی قسم کی کامیابی نہیں ہوسکتی جب تک اس کا خلیفہ وقت سے تعلق نہ ہو۔خلافت کا وجود جو جماعت کی ترقی کیلئے نہایت ضروری چیز ہے اور اس سے وابستگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک درخت کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں ان کا تعلق درخت کی جڑ سے ہوتا ہے۔تجربہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ کوئی شاخ اس وقت تک پھل پھول پیدا نہیں کر سکتی جب تک اس کا تعلق جڑ سے مضبوط نہ ہو۔ہمیشہ وہی شاخ ترقی کرے گی جو اگر چہ معمولی غذا حاصل کرے مگر جڑ سے وابستہ رہے لیکن اگر ایک شاخ کو درخت سے کاٹ کر سمندر کے پانی میں پھینک دیا جائے تو وہ بھی ترقی نہیں کر سکتی بلکہ گل جائے گی کیونکہ اس کا تعلق جڑ سے منقطع ہو گیا۔پس اس طرح جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ جماعت سے علیحدہ ہوکر یا خلافت سے منقطع ہو کر بھی وہ ترقی کر سکتا ہے اسے یادرکھنا چاہیئے اس طرح اس کیلئے ترقی کرنا بالکل ناممکن ہے