حیات شمس — Page 255
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ย 239 سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور صحبت کا شرف حاصل کیا۔انہوں نے اپنے بیٹے کو خدمت دین کے لئے وقف کر دیا۔پاک زمانہ تھا، اعلیٰ ترین مصاحبت نصیب ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت میاں امام الدین سیکھوائی کے فرزند کو نوازا۔1919ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔کچھ عرصہ مبلغین کلاس میں حضرت حافظ روشن علی صاحب سے تعلیم حاصل کی۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی 1924ء میں سفر یورپ سے واپسی پر بلاد عر بیہ میں با قاعدہ مشن جاری کرنے کا عزم لے کر آئے تھے۔حضور کی نگاہ انتخاب مولانا شمس پر پڑی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی معیت میں مولانا شمس صاحب کو دمشق بھجوایا گیا۔تعارف کرانے کے بعد حضرت شاہ صاحب واپس آگئے اور مولانا شمس صاحب بلاد عریبہ میں باقاعدہ مشن کے انچارج مقرر ہوئے۔مولانا شمس صاحب نے کم و بیش چھ برس بلاد عریبہ میں بسر کئے۔شروع شروع میں آپ نے دمشق میں کام شروع کیا جس کے نیک نتائج نکلنے شروع ہو گئے۔الاستاذ منیر الحصنی جو حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے پرانے شاگرد تھے ، مولانا شمس صاحب کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو گئے۔مخالفت بڑھ گئی علماء کی اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں ایک جاہل نوجوان نے شمس صاحب پر خنجر سے حملہ کیا۔زخم سخت خطر ناک تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچالیا۔شام میں فرانسیسی انتداب تھا۔فریج گورنمنٹ نے شمس صاحب کو شام سے چلے جانے کا حکم دیا۔آپ نے بذریعہ تار حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے بغداد جانے کی اجازت طلب کی۔حضور نے مولانا کو ہدایت فرمائی کہ آپ حیفا ( فلسطین) میں چلے جائیں۔حیفا میں بھی علماء کی شورشیں بدستور تھیں مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے علماء کے مقابلہ کی توفیق بخشی۔آپ نے جرات کے ساتھ اُن سے مباحثات کئے جس سے عوام پر اچھا اثر ہوا۔مخالفت بھی بھڑ کی مگر احمدیت کا چرچا بھی گھر گھر ہونے لگا۔ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے حیفا کے قریب عکا( فلسطین) میں فرقہ شاذلیہ کے رئیس شیخ ابراہیم کو کافی عرصہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی خط موصول ہو ا تھا۔وہ صوفی مشرب انسان تھے انہوں نے اپنے مریدوں کو کہا تھا کہ یہ خط محفوظ رکھو تمہیں حیفا سے امام مہدی کا پیغام ملے گا۔مولا نائٹس صاحب کے حیفا آنے پر جب احمدیت کی آواز لوگوں کے کانوں تک پہنچی تو ان میں سے بہت سے نیک دل لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔حیفا پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے مولانا شمس صاحب کو اچھے ساتھی اور مخلص رفیق عطا فرما دیئے اور احمد بیت کا پودا ان ممالک میں قائم ہو گیا۔