حیات شمس — Page 253
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 237 عقائد کا غلبہ ظاہر ہو گیا حتی کہ اسلامی مجلس اعلیٰ کے ایک ممتاز رکن نے کہا کہ احمدیت واقعی سچی ہے اور احمدی خادم اسلام ہیں۔اس کے بعد اسلامی مجلس اعلیٰ نے سرکاری طور پر تسلیم کیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور اس کی اطلاع محکمہ شرعیہ حیفا کو دی ، تا کہ احمدیوں کے نکاح میں کوئی روک پیدا نہ ہو۔فلسطین میں ہماری جماعت نے بہائیت کا مقابلہ بھی کیا۔مولانا شمس صاحب، مولانا ابوالعطاء صاحب، مولانا محمد سلیم صاحب اور مولانامحمد شریف صاحب سب مبلغین اسلام نے بہائیوں کے زعیم شوقی آفندی سے ملاقاتی کیں، اور ان کے نمائندوں سے مناظرات بھی کئے۔شوقی صاحب خود تو ہمیشہ مختلف حیلوں بہانوں سے احمدیوں سے بحث کرنے کو ٹالتے ہی رہے لیکن ان کے علماء سے مختلف مواقع پر تبادلۂ خیالات ہو جاتا رہا۔پہلی مرتبہ جب حیفا میں شوقی صاحب سے شمس صاحب کی ملاقات ہوئی ، تو اس نے شمس صاحب سے عربی زبان میں گفتگو کی۔اس کے چند ماہ بعد میں شمس صاحب کی معیت میں حیفا گیا اور شوقی صاحب سے حدیقہ بہائیہ میں ملاقات کی لیکن جب عربی میں گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے عذر کیا کہ وہ عربی میں گفتگو نہیں کر سکتے ، انگریزی میں بول سکتے ہیں۔وہاں سے فارغ ہونے پر شمس صاحب نے مجھے کہا کہ شوقی صاحب نے کیسی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔وہ مجھ سے حیفا میں عربی زبان میں گفتگو کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں آپ علہ اور حیفا میں عربوں میں ہی پہلے اور جوان ہوئے مگر عربی سے ناواقفیت کا عذر کیا۔بہائیوں کے زعیم کی یہ خلاف بیانی ہمارے لئے بڑے تعجب کا موجب ہوئی۔اس کے بعد ہمیں دوسرے بہائیوں کے متعلق بھی یہ تجربہ ہوا کہ وہ عموماً جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔ایک مرتبہ حیفا میں میری ایک بہائی گھڑی ساز سے ملاقات ہوئی۔دورانِ گفتگو میں پہلے تو اس نے اپنے بہائی ہونے سے انکار کیا، اور تقیہ کے لباس میں احمدیت پر اعتراضات کرتے ہوئے اس نے اپنے ارد گرد کے دکانداروں کو بھی بلا لیا، تا کسی طرح میرے خلاف شرارت پیدا کرے، لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد معلوم ہو گیا کہ وہ بہائی ہے۔چنانچہ میرے اصرار سے دریافت کرنے پر آخر اُسے اپنی بہائیت کا اقرار کرنا پڑا۔میں نے حاضرین سے کہا دیکھئے ! یہ کیسا جھوٹا شخص ہے ابھی اس نے کہا تھا کہ وہ بہائی نہیں ہے لیکن اسی مجلس میں اپنی بہائیت کا اقرار کر نے پر مجبور ہو گیا ہے۔اس پر حاضرین نے اسے بہت شرمندہ کیا۔از ہر یونیورسٹی کی سیادت الشیخ مصطفے مراغی مرحوم کی طرف منتقل ہونے کے بعد اخبار الا زہر نے نہ صرف احمدیت کے خلاف لکھنا بند کر دیا بلکہ اس کے برعکس اس میں علماء از ہر کا فتویٰ شائع ہوا کہ