حیات شمس — Page 245
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 229 بشیر احمد صاحب کی وفات حسرت آیات کی خبر بذریعہ تار ملی۔بچپن سے لے کر اس وقت تک کے حالات یاد کر کے چشم پر آب ہو گیا۔ایسے وقت میں قلبی کیفیت کا اظہار آنکھ ہی کرتی ہے۔احمدی احباب یہ خبر سنکر افسردہ ہوئے۔بھائی مرحوم مجھ سے تقریباً تین سال بڑے تھے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ کی دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی پھر والد صاحب کے ساتھ گھر کے کاروبار میں مشغول ہوگئے اور اس وقت تک ان کے پاس ہی تھے۔انکی وجہ سے میں والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی طرف سے بالکل مطمئن البال تھا۔مرحوم سادہ طبیعت ، شرمیلے، خوش خلق اور مجھ سے نہایت محبت و احترام سے پیش آیا کرتے تھے آخری دو سال آپ نے بیماری اور صحت میں گزارے۔کبھی مرض سے افاقہ ہو جاتا اور کبھی مرض عود کر آتا آخر ۲۳ اگست کو تقریباً تینتیس چونتیس سال کی عمر میں اس دار فانی کو الوداع کہہ کر عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ نے چار بچے چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں خادم دین بنائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں مقام عطاء فرمائے۔اللهم اغفر له وادخله الجنة واكرم نزله - اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔جس کو میں جانتا ہوں اُس کو طاعون نہیں ہوئی اور جو مجھے جانتا ہے اُسے بھی طاعون نہیں ہوئی ایک بات جو سلسلہ سے تعلق رکھتی ہے عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں وہ یہ کہ طاعون کے ایام میں مرحوم بیمار ہو گئے۔خیال کیا گیا کہ طاعون ہے۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک یہ خبر پہنچا دی۔جمعہ کے دن والد صاحب نے بیماری کی کیفیت کو بیان کیا اور کہا کہ اب بچہ کو آرام ہے تو حضور نے فرمایا کہ اس کا نام طاعون نہیں ہے اس کو ددھ (ایک بیماری) کہتے ہیں نیز فرمایا کہ جس کو میں جانتا ہوں اُس کو طاعون نہیں ہوئی اور جو مجھے جانتا ہے اُسے بھی طاعون نہیں ہوئی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھائی کو جلد صحت عطا فرمائی۔جس وقت مجھے تار ملا اس کے نصف گھنٹہ بعد قاضی اور مشائخ مع چالیس اوباشوں کے حیفا سے کبابیر گاؤں میں پہنچ گئے اور شور مچایا کہ ہم مباحثہ کیلئے آئے ہیں۔میں نے دل میں کہا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے میں بھی اس وقت میدان حرب میں ہوں اس وقت مجھے سب ہموم و غموم کو چھوڑ کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔احمدی احباب نے اگر چہ گفتگو سے روکا اس ڈر سے کہ کہیں فساد نہ ہو جائے لیکن میں نے کہا اگر میں ان کے سامنے نہ گیا تو کہیں گے کہ بھاگ گئے اس لئے ہم ان سے گفتگو کیلئے گئے۔پہلے قاضی