حیات شمس

by Other Authors

Page 244 of 748

حیات شمس — Page 244

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 228 تبلیغ کیلئے روانہ کیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جدید گاؤں کا نمبر دار کہا بیر میں میری ملاقات کے لئے آیا اور دو روز قیام کیا۔رخصت ہوتے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کہنے لگے آپ یقین جانیں کہ یہ پہلا ہاتھ ہوگا جو آپ کی ہر طرح مدد کرے گا۔یہ شخص امریکہ میں بھی آٹھ سال کے قریب رہ چکا ہے۔میں اس کی باتوں سے اس نتیجہ پر پہونچا تھا کہ وہ احمدیت کی حقانیت کو دل سے قبول کر چکا ہے مگر وہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ پہلے گاؤں والوں کو اپنے ساتھ ملائے۔چنانچہ عید کے دوسرے روز جب برادرم شیخ صالح و برادرم شیخ سلیم کو ان کے گاؤں میں بھیجا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اس امر کیلئے خوب کوشش کر رہا ہے یہاں تک کہ ایک عکاوی شیخ جب ان کے گاؤں میں آیا اور لوگوں کو ہماری کتابیں نہ پڑھنے کی تلقین کرنے لگا تو اس کی اس سے خوب جھڑپ ہوئی۔نئے ٹریکٹ دوٹریکٹ آٹھ آٹھ صفحات کے ایک ایک ہزار کی تعداد میں شائع کئے گئے ہیں۔ایک تو برادرم منیر الحصنی نے لکھا ہے جس میں مسلمانوں کو احمدیت کی طرف دعوت دی ہے اور طرابلس الغرب کے مسلمانوں پر جو اطالوی لشکروں نے مظالم کئے ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو تو جہ دلائی ہے کہ وہ اس آواز پر لبیک کہیں جو اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پہنچائی ہے جسے قبول کرنے کے سوا ان عذابوں سے نجات پانا محال ہے۔دوسرا ٹریکٹ میں نے مسیحیوں کیلئے لکھا ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو تورات و انجیل سے مبرہن کیا گیا ہے۔یٹریکٹ ان دیہاتوں میں جہاں مسیحی کثرت سے آباد ہیں تقسیم کیا جائے گا۔برادرم عبدالحمید خورشید مصر سے تحریر کرتے ہیں۔ان کا ایک از هری شیخ سے مسئلہ قضا و قدر اور وفات و حیات مسیح علیہ السلام پر مباحثہ ہوا۔حاضری تیس کے قریب تھی۔اکثر نے برادرم عبدالحمید کے پیش کردہ دلائل کی قوت کو تسلیم کیا اور بعض نے شیخ کو اس کی سخت گوئی پر ملامت بھی کی۔وہ لکھتے ہیں اس روز مجھے اس قدر خوشی ہوئی جو پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔الفضل قادیان 11 جون 1931ء) اکلوتے بھائی کا ذکر خیر حضرت مولانا شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں: 25 اگست 1930ء کو مکر می جناب ناظر صاحب دعوت و تبلیغ کی طرف سے میرے اکلوتے بھائی