حیات شمس — Page 232
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس عطا فرمائے۔216 اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث فرمایا اسی لئے آپ کی کتب میں ہر قسم کے لوگوں کی ہدایت کا سامان موجود ہے یہاں فرقہ شاذلیہ کے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں وہ صوفی مشرب کے ہیں۔خطبہ الہامیہ کا ان لوگوں پر عجیب اثر ہوتا ہے۔جب پڑھتے ہیں تو ان پر وجد اور رقت کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔الفضل قادیان 15 جولائی 1930ء) مصر کو دوبارہ روانگی قبل از میں کہا بیر میں غیر احمدی علماء سے مباحثہ کا ذکر کر چکا ہوں۔مباحثہ کے تین روز بعد یعنی 31 اگست مصر کو عازم سفر ہوا۔روانگی سے پہلے سات عورتیں جن کے خاوند احمدی ہیں سلسلہ میں داخل ہوئیں۔جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو انہوں نے عجیب اخلاص و محبت کا مظاہرہ کیا۔تمام احمدی مجھے الوداع کہنے کے لئے نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے گاؤں سے باہر آئے اور تقریباً سب ہی چشم پر آب تھے اور بہت سے دوسرے روز حیفا میں ریلوے سٹیشن پر بھی حاضر ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص میں برکت دے۔جس روز میں مصر کو روانہ ہوا اس سے ایک روز پہلے برادرم ممدوح حقی حلب سے طبر یا پہنچے۔ان کا خط مجھے مصر ملا۔طبریا سے وہ حیفا اور حیفا سے کہا بیر گئے۔وہاں کی جماعت کے متعلق انہوں نے نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے۔لکھتے ہیں کہ گاؤں سے باہر انہوں نے میرا استقبال کیا۔پھر نماز میں بہت سے احمدیوں کو دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔دو روز ان کے پاس ٹھہرا۔جس محبت اور اخلاص اور حقیقی اخوت کا انہوں نے اظہار کیا میں بیان نہیں کر سکتا۔میں نے انہیں ایمان میں نہایت مضبوط اور راسخ القدم پایا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت کے غیر تعلیم یافتہ افراد بھی علماء کا مقابلہ کر لیتے ہیں اور ان کی قوت محبت کو دیکھ کر ہر عاقل کو احمدیت کی صداقت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔پھر وہ مجھے آپ کے نشانات دکھاتے رہے کہ آپ یہاں بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے۔پھر مجھے ان دو تاریخی درختوں کے پاس لے گئے جن کے سایہ میں آپ کا قاضی اور شنقیطی وغیرہ سے مباحثہ ہوا۔پھر انہوں نے کیفیت مباحثہ سنائی اور یہ کہ آپ نے کس طرح انہیں لا جواب کیا اور کیونکر وہ خائب و خاسر واپس لوٹے۔میں ان سے اس حال میں رخصت ہو رہا ہوں کہ میرا ہر ذرہ لسان شکر ہو کر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں استقلال بخشے