حیات شمس

by Other Authors

Page 221 of 748

حیات شمس — Page 221

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 205 پس جب کفار نے اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو نابود کرنے کیلئے تلوار اٹھائی تو حسب قول مسیح کہ جو تلوار اٹھاتا ہے وہ تلوار سے ہی مارا جاتا ہے صحابہ پر لازم تھا کہ وہ بھی ان کے مقابلہ پر تلوار اٹھاتے تا مسیح کا فرمان سچا ہو۔پس اب دو ہی صورتیں ہیں یا کہو مسیح نے جھوٹ بولا یا مانو کہ آنحضرت کفار سے جنگ کرنے میں حق پر تھے۔آخر اسے ان لوگوں کے سامنے جن کے آگے وہ لافیں مارتا تھا سخت شرمندہ ہونا پڑا اور غیر احمدی دوستوں نے بھی کہا کہ ہم نے یہاں کے علماء سے اس قسم کے زبر دست دلائل آج تک نہیں سنے۔تبلیغ کیلئے سفر (الفضل قادیان 18 دسمبر 1928ء) حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اپنی رپورٹ میں تحریر کرتے ہیں۔برادرم مصباح الدین العابودی کے ہمراہ ان کے گاؤں کفر اللبد میں گیا۔امام قریہ اور دوسرے لوگ ملنے کے لئے آئے اور مجھ سے پادریوں کے اسلام پر اعتراضات کے جوابات دریافت کرتے رہے۔جواب سن کر نہایت خوش ہوئے۔رات کو دیہاتی رواج کے موافق نمبر دار نے رؤساء قریہ کو بھی دعوت طعام دی۔کھانے کے بعد بہت سے اور لوگ بھی اکٹھے ہو گئے اور رات کے بارہ بجے تک مختلف مسائل کے متعلق گفتگو ہوئی۔دوران گفتگو میں وفات مسیح کے مسئلہ پر بھی بحث ہوئی۔تقریباً سب نے وفات مسیح کا اقرار کر لیا۔صبح کو برادرم مصباح الدین کے چند رشتہ داروں کے سامنے جو ملاؤں کے رنگ میں رنگین ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے متعلق گفتگو ہوئی۔اس سفر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے دیہاتوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی خبر پہنچ جائے گی۔چند روز کا عرصہ ہوا جب مشائخ نے دیکھا کہ زبانی مخالفت کا کچھ فائدہ نہیں ہوا اور لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے سے باز نہیں آئے تو انہوں نے یہ ٹھان لی کہ جس طرح ہو سکے جبر و اکراہ سے مخالفت کا طوفان بے تمیزی برپا کر کے جہلاء کو بھڑکا کر غرضیکہ جائز و ناجائز وسائل استعمال کر کے احمدیوں کو واپس کیا جائے۔چنانچہ ایک شخص کو المجلس الاسلامی کے واسطہ سے بلوایا جس نے اپنی تقریروں میں ہمارے خلاف خوب زہر اگلا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں کوئی احمدی ملے جہلا اسے گالیاں دینے لگے۔ایک دو سے خفیف سی لڑائی بھی ہوئی اور خفیہ چنداو باشوں کی احمد یوں کو اذیت پہنچانے کیلئے