حیات شمس — Page 220
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 204 متی 19:19 میں والدین کی تکریم و تعظیم کا حکم موجود ہے مگر باوجود اس کے جب یسوع مسیح کی والدہ اور بھائی اس سے کوئی بات کرنے کیلئے آئے جبکہ وہ شاگردوں کو درس دے رہا تھا تو ان کی آمد کی خبر پا کر مخبر کو یوں جواب دیا۔من ھی امی و من هم اخوتی کون ہوتی ہے میری ماں اور کون ہوتے ہیں وہ میرے بھائی۔اب آپ ہی بتائیے کہ کیا والدہ کی تکریم و تعظیم کے اظہار کیلئے یہی مقدس الفاظ رہ گئے تھے۔دیکھومتی (48:12) پھر اس نے یوحنا 8:10 میں کہا کہ مجھ سے پہلے جس قدر لوگ آئے ہیں وہ چور اور ڈاکو تھے۔کیا یہ جھوٹ نہیں۔پھر عید خیام پر جب اس کے بھائیوں نے اسے یہودی آبادی میں جانے کیلئے کہا کہ تا وہ اپنے شاگردوں اور دوسرے لوگوں کو اپنے اعمال دکھائے تو اس نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ابھی میرے جانے کا وقت نہیں آیا۔مگر جب وہ چلے گئے تو چپکے سے پوشیدہ طور پر خود بھی وہاں جا پہنچا۔(دیکھیں یوحنا باب 7 آیات 2 تا10) نیز اس نے یوحنا ہمدان سے بپتسمہ لیا اور وہ بپتسمہ گناہوں سے تو بہ اور مغفرت خطایا کا بپتسمہ لینا ایک لغو کام تھا۔اس قسم کی میں نے دس باتیں انجیل سے پیش کیں جن میں سے بعض کے متعلق اس نے دبی زبان سے اقرار کیا کہ واقعی یہ خطا ہے۔میں نے کہا چلو ایک ہی سہی۔بہر حال یسوع مسیح خطا کے مرتکب ہوئے۔جب اس سے میں اس بات کا اقرار لے چکا تو اسے کہا تو اب میں یہ دعوی کرتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے۔اس نے فور جواب دیا کہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا یہی ان کے گنہ گار ہونے کیلئے کافی ہے۔میں نے کہا تمہیں اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ کفار مکہ نے صحابہ پر تلوار اٹھائی اور انہیں انواع واقسام کی ایذاؤں اور تکالیف کا نشانہ بنایا اور ان پر ہرقسم کے مظالم توڑے۔ان میں سے بعض کو قتل کیا بعض کو لوٹ لیا اور انہیں اس قدر تنگ کیا کہ وہ اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔کہنے لگا یہ صحیح ہے مگر انہیں ان تمام باتوں پر صبر کرنا چاہیے تھا نہ یہ کہ جنگ کرتے اور انہیں قتل کرتے۔میں نے کہا انجیل میں لکھا ہے کہ جب یہود نے یسوع مسیح کو پکڑا تو اس کے ایک شاگرد نے کا ہنوں کے سردار کے ایک خادم کا تلوار سے کان کاٹ ڈالا۔تو یسوع مسیح نے اسے تلوار میان میں کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا۔لان كل الذين يا خذون السيف بالسيف يهلکون کہ جو تلوار اٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاتے ہیں۔(دیکھومتی 51:26 )