حیات شمس — Page 219
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس عصمت انبیاء و معجزہ شق القمر پر ایک مسیحی سے گفتگو 203 بعض احباب نے مجھ سے بیان کیا کہ یہاں ایک متعصب مسیحی آپ سے گفتگو کرنے کا خواہش مند ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مثیل فلسطین میں کوئی اور نہیں ہے۔میں نے کہا وہ تشریف لے آئیں میں ہر وقت حاضر ہوں۔جب آیا تو اس نے سب سے پہلے معجزہ شق القمر پر اعتراض کیا کہ یہ قانون قدرت اور علم ہیئت کے خلاف ہے۔میں نے مفصل طور پر شق القمر کی کیفیت وقوع اور پھر اس کے ضمن میں جو کفار کی سطوت و حکومت کے زوال اور صحابہ کے عروج کی پیشگوئی تھی ، بیان کی اور بتایا کہ شق القمر جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے قانون قدرت و علم ہیئت کے قطعاً مخالف نہیں ہے البتہ بائیل میں بکثرت قانون قدرت و علم ہیئت کے مخالف باتیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً یوشع بن نون کی دعا سے سورج کا وسط آسمان میں پورا ایک دن ٹھہرے رہنا اور اس دن کا دو دن کے برابر ہونا کیونکر علم ہیئت کے مطابق ہوسکتا ہے۔(دیکھو کتاب یوشع 14:12) اور نیز روح القدس کے نزول کے وقت آسمانوں کے دروازوں کا کھل جانا ( دیکھومتی 16:3) پھر ان کے بند ہونے کا عدم ذکر وغیرہ کیونکر علم ہیئت کے مطابق ہوسکتا ہے نیز مسیح کا یہ قول کہ سورج اندھیرا ہو جائے گا اور قمر اپنی روشنی چھوڑ دے گا اور ستارے آسمانوں سے گر پڑیں گے اور آسمانی قوتیں مل جائیں گی۔تب ابن آدم کو آسمان کے بادلوں میں بڑی قوت اور شان بزرگی سے آتا ہوا دیکھیں گے (دیکھومتی 24:29 ) کون ہیئت دان صحیح مان سکتا ہے۔اول تو ستارے جب آسمان سے زمین پر گر پڑے تو اہل زمین کیونکر بچیں گے۔ثانیاً جب سورج و چاند روشنی دینے سے باز رہے تو کن آنکھوں سے اس کے جلالی نزول کا مشاہدہ کریں گے۔ان باتوں کا اس کے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا۔پھر عصمت انبیاء پر بحث ہوئی جس پر اسے بحث کرنے کا زیادہ شوق تھا۔اس نے یہ دعویٰ کیا کہ مسیح کے سوا سب انبیاء خطاؤں کے مرتکب ہوئے جیسا کہ قرآن مجید سے ظاہر ہے۔میں نے کہا قرآن شریف کی رو سے حضرت اسماعیل ، صالح، شعیب ، ذوالکفل ، ادریس علیہم السلام نبی تھے۔بتاؤ انہوں نے کون سی خطا کی۔اس سوال کا سکوت کے سوا کوئی جواب نہ دے سکا۔پھر میں نے کہا جن باتوں کو تم گناہ خیال کرتے ہو ان سے بڑھ کر انجیل میں یسوع مسیح کے حق میں باتیں موجود ہیں۔مثلاً