حیات شمس — Page 214
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا۔یدعون لک ابدال الشام۔198 [تذکرہ مجموعہ الہامات، بار چہارم،2004ء،صفحہ 100] کسی نہ کسی ذریعہ آپ کی کوئی کتاب پہنچی اور ابدال آپ پر ایمان لے آئے۔یہ پیشگوئی بھی ہے مگر اب بھی معلوم ہورہا ہے کہ کئی لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں۔جن کا اب کسی نہ کسی طریق سے پتہ لگتا ہے۔چین وغیرہ کے احمدیوں کا پتہ غیروں کے ذریعہ لگ رہا ہے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تقویت دینے اور خوش کرنے کیلئے بتایا کہ دور دور کے لوگ ایمان لا رہے ہیں۔66 الحاج محمد المغربي الطرابلسی (ملاحظہ ہو ضمیمہ اخبار الفضل قادیان یکم مئی 1928ء) حضور کے مندرجہ بالا قول کی تصدیق میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔3 جون 1928 ء کو میں اپنے چند احمد یوں کولیکر کر مل پہاڑ پر گیا۔وہاں سے قریب ہی ایک وادی ہے بعض دوستوں نے کہا چلو وادی میں اتریں۔وہاں نہایت ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے۔جب وادی میں اترے اور درخت کے سایہ میں بیٹھے تو ایک شخص ہمارے پاس آ گیا اور میرے ساتھیوں سے میرے متعلق دریافت کیا کہ کیا آپ ہی ہندی مبلغ ہیں۔انہوں نے جواب دیا۔ہاں۔پھر سلسلہ کے متعلق اس سے باتیں ہوتی رہیں۔اس نے کہا یہاں قریب ہی ایک شیخ ہے وہ آپ سے ملنا چا ہتا تھا۔چنانچہ نماز پڑھ کر ہم اس شیخ کے پاس گئے۔تو وہ دور سے ننگے پاؤں دوڑا آیا اور مجھ سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور نہایت ہی محبت اور خلوص کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ ہم نے مشائخ کو جامع مسجد میں آپ کے خلاف یہ کہتے سنا ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہندی کا فر ہے۔کہتا ہے کہ مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں اور مسیح موعود آ چکا ہے۔تو ہم نے آپ کی تلاش شروع کی۔لوگوں سے پوچھتے تو آپ کا پتہ نہ بتاتے۔بعض تو کہتے وہ یہاں سے چلا گیا ہے بعض کہتے کہ جنگ یا غزہ میں کسی نے قتل کر دیا ہے۔(اس قدر بات کر کے پھر وہ کہنے لگا۔الحمد للہ کہ خدا تعالی ہی خود آپ کو ہمارے پاس لایا ہے۔ہم تو پہلے سے ہی اس بات پر ایمان لا چکے ہیں اور جو کچھ آپ کی کتاب میزان الاقوال میں لکھا ہے سب صحیح مانتے ہیں۔( میزان الاقوال نہ معلوم کیسے ان کے پاس پہنچ چکی تھی ) پھر انہوں نے سنایا کہ میں سال کا عرصہ ہوا ہے میں یمن میں محمد بن ادریس امام یمن کے پاس تھا جو کابل سے امام محمد بن اور لیس کے پاس چند کتابیں اس مدعی کی پہنچیں۔آپ نے وہ کتابیں پڑھ کر علما