حیات شمس — Page 209
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس فرقہ شاذلیہ 193 تیسرے دن میں نے چاہا کہ اس شہر کو بھی دیکھوں جس کی بہاء اللہ نے اپنی بعض کتابوں میں مذمت کی ہے اور جس میں وہ ایک زمانہ تک قید رہے ہیں یعنی شہر عکہ۔شہر میں تو بہائیوں کا کوئی نشان نہیں ہے اس لئے وہاں شیخ علی نور الدین البشر طی مؤسس طریقہ شاذلیہ کی قبر دیکھنے کیلئے گیا۔میں قبر کے پاس کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا اور منہ کے بل گر پڑا۔اس کو دیکھ کر میرے تمام بدن میں ایک لرزش خفی پیدا ہوئی اور میں نے اسی وقت اسے ملامت کی اور کہا کہ تم ایک بشر کو جو ہمارے جیسا تھا سجدہ کرتے ہو۔کیا اس کی تعلیم کا یہی نتیجہ ہے۔کہنے لگا ہماری تو یہی عادت ہے۔میں نے ان لوگوں پر تعجب کیا جواب اس کے متولی اور اس کے خلیفہ ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ وہ اس طرح لوگوں سے اپنی بے جا عزت کرانا چاہتے ہیں۔میں نے اُسے سمجھایا کہ دیکھو سجدہ خدا کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں ہے یہاں تک کہ آخر وہ شرمندہ ہوا۔جب میں وہاں سے نکلا تو شیخ ابوشامات کے بیٹے نے مجھے دیکھ لیا۔وہ شامی ہیں اور شام میں مجھ سے ملتے رہتے تھے۔انہوں نے مجھے آواز دی اور شیخ علی البشر طی کے پوتے سے جواب ان کا خلیفہ ہے، ملاقات ہوئی۔میں وہاں پر تقریبا نصف گھنٹہ تک باتیں کرتا رہا مگر اس نے ایک کلمہ بھی اپنے منہ سے نہ نکالا۔اس کی شکل سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ جاہل ہے۔میں نے ان سے کہا تم شیخ علی البشرطی کی کتابیں چھپواتے کیوں نہیں تو ابن ابو شامات نے کہا کہ علماء ظواہر سمجھتے نہیں ہیں۔میں نے کہا علماء ظواہر پر ہماری باتیں بھی نہایت شاق گزرتی ہیں اور وہ ہمیں کا فرو فاسق بھی کہتے ہیں مگر ان کی تکفیر کی وجہ سے ہم ان سے ڈرتے نہیں بلکہ علی الاعلان لوگوں کے سامنے اپنے عقائد ظاہر کرتے ہیں۔پھر اس نے ایک بہت لمبی عبارت سنائی جس پر میں نے کہا کہ دیکھئے یہ اتنی لمبی عبارت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعران معانی کو اس سے نہایت ہی اعلیٰ پیرایہ میں ادا کر رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں: کس چوں بچشم غیر یار 15° صدیقے نشد زند یقے کہ کوئی شخص محبوب کی نظر میں صدیق نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے اغیار کی آنکھوں میں زندیق نہ ہو۔پھر وہاں سے بھجن گئے۔یہ مقام عکہ سے دو اڑھائی میل کے فاصلہ پر ہے جہاں بہائیوں کا خدا مدفون