حیات شمس

by Other Authors

Page 203 of 748

حیات شمس — Page 203

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 187 مشائخ کے وفود جانے لگے اور میرے نکلوانے کیلئے آہ وزاری کی اور درخواستیں پیش کیں۔سو جب وہ بیروت گیا تو اس کے تین دن بعد ہائی کمشنر کی طرف سے مجھے اس حکم کی نقل دی گئی جس میں لکھا ہے: چونکہ استاذ جلال الدین شمس ابن امام الدین الاحمدی کا یہاں پر رہنا معیوب اور باعث قلق راحت عامہ ہے اس لئے ان کے نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔سیکرٹری عام ہائی کمشنر اور مفتش پولیس عمومی ہر دوان امور میں جو ان سے متعلق ہیں اس قرار کی تنفیذ کیلئے مکلف ہیں“۔ایک رؤیا اس حکم کے پورے تین دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہتا ہے کہ تین دن تک آپ کے نکالنے کا حکم صادر ہوگا۔چنانچہ اس کے مطابق مجھے ٹھیک تیسرے دن حکم پہنچا۔گیارہ مارچ کو میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے نام تار دیا کہ حکومت نے مجھے شام چھوڑنے کے لئے مجبور کیا ہے لہذا ابغداد جاؤں یا فلسطین۔بارہ مارچ کو ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے تار ملا۔ہائی کمشنر کے پاس اپیل کرو کہ بیروت میں ٹھہرنے کی اجازت دے بصورت دیگر حیفا پہنچ جاؤ۔چونکہ حکم ہائی کمشنر کی طرف سے تھا اس لئے اس قرار کو منسوخ کرانے کیلئے وقت درکار تھا۔لہذا میں سید منیر آفندی اکھنی کو اپنا قائم مقام مقرر کر کے اور جماعت کو چند ہدایات دیکر 17 مارچ کو جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً [الاسراء :82] پڑھتا ہو ا حیفا پہنچا۔کیونکہ ملاؤں کا میرے نکلوانے کی کوشش کرنا صرف ان کے دلائل کی رو سے مقابلہ سے عاجز آنے کی وجہ سے تھا اور یہ کہ ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں رہا جب ہی تو وہ ان اوچھے ہتھیاروں پر جو ہمیشہ سے کفار کا طریق رہا ہے اتر آئے جو حق کے غالب اور باطل کے کافور ہونے کی دلیل بین ہے زمانہ مسیح ناصری کی یاد پھر تازہ ہوگئی۔مسیح ناصری کو تیسرے سال صلیب پر لٹکایا گیا۔بے ہوشی کی حالت طاری ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچالیا پھر آپ کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی۔اسی طرح اس وقت کے مثیل یہود مشائخ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ادنیٰ خادم کو تیسرے سال قتل کرنا چاہا جس سے اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔انہوں نے قتل کی خبر مشہور کردی گر اللہ تعایٰ نے بچالیا پھر وہاں سے نکلنے کے لئے مجبور کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز 1924 ء میں دمشق تشریف لائے اور منارۃ البیضاء کے پاس دمشق کے دروازہ میں آپ نے نزول فرمایا تا وہ حدیث پوری ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ