حیات شمس

by Other Authors

Page 176 of 748

حیات شمس — Page 176

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بہر حال ایسے موقعہ پر جبکہ حملہ کرنے والے کی نیت قتل ہو یہی خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے سخت زخمی کرنے میں کمی نہ کی ہوگی۔پس کو تفصیل ابھی نہیں آئی اس لئے یہی خیال آتا ہے کہ زخم سخت ہوں گے۔لیکن ممکن ہے زخم سخت نہ ہوں تاہم جب جوش اور غضب کی آگ بھڑ کی ہوئی ہو اور ایک حملہ اگر ناکام رہے تو دوسری دفعہ بھی خطرہ ہوتا ہے۔چونکہ حکومت ہمارے ہاتھ میں نہیں اس لئے ہم ایسے حملوں کا اندفاع طاقت سے نہیں کر سکتے۔ہمارے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے مبلغین کی جانوں کی حفاظت کرے اور دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے۔176 ایک عرصہ سے شام کے حالات مخدوش ہو رہے تھے۔اس وقت تک جو لوگ احمدی ہو چکے ہیں ان میں سے کئی ایک کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ہمارے ایک دمشق کے دوست جو اس مجلس میں بھی بیٹھے ہیں ( برادر احسان حقی صاحب) ان کے ایک بھائی جو بہت مخلص احمدی ہیں۔ان کے متعلق مولوی جلال الدین صاحب نے لکھا تھا کہ انہیں تین چار آدمیوں نے جن کے پاس خنجر تھے ایک دن شہر سے باہر روک لیا اور کہا یا تو احمدیت سے تو بہ کرو ورنہ قتل کر دیں گے۔اسی طرح اور احمدیوں کے متعلق انہوں نے لکھا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔پچھے ہفتہ کی ڈاک میں جو خط آیا اس میں ذکر تھا کہ علماء نے کہا ہے گورنمنٹ احمدیوں کے متعلق کچھ نہیں کرتی ہمیں خود ان کا انتظام کرنا چاہیئے۔پہلے انہوں نے گورنمنٹ کو احمدیوں کے خلاف بہت کچھ کہا اور ملک سے نکال دینے کا مطالبہ کیا مگر گورنمنٹ نے اس معاملہ میں دخل نہیں دیا۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ فرانسیسی حکومت ہے۔اسے ذاتی طور پر احمدیوں کے ساتھ احمدی ہونے کی وجہ سے کوئی دشمنی اور عداوت نہیں ہوسکتی دوسرے وہاں پادری بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ان کے خلاف جب لوگوں نے شکایت کی تو گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو نہ تو ملک سے نکالا جاتا ہے نہ تبلیغ سے روکا جاتا ہے۔مسلمانوں کو ان کی باتوں کا جواب دینا چاہیئے۔جب گورنمنٹ پادریوں کے متعلق یہ فیصلہ کر چکی ہے تو اس کیلئے مسلمان کہلانے والے مبلغوں کو ملک سے نکال دینا مشکل امر مولوی جلال الدین صاحب کے خط میں ذکر تھا کہ مولویوں نے جب احمدیوں کو مارنے کا فتویٰ دیا تو لوگوں نے انہیں کہا پادریوں کے متعلق بھی یہی فتویٰ دیا گیا تھا مگر کسی نے کچھ نہ کیا