حیات شمس

by Other Authors

Page 169 of 748

حیات شمس — Page 169

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 169 راویوں کے اسماء اور ان کے حالات کتب نکال کر پڑھنے لگے۔ایک راوی ابراہیم الواسطی ہے۔اس کے متعلق لکھا تھا کہ یہ متروک الحدیث ہے۔کہنے لگا دیکھا یہ اس وجہ سے حدیث ضعیف ہے۔کیا تمہیں یہ بات معلوم تھی۔میں نے کہا ہاں اور اس سے زائد بھی معلوم ہے۔کہنے لگا وہ کیا۔میں نے کہا ابراہیم الواسطی کو بعض نے ضعیف ٹھہرایا ہے مگر باوجود اس کے اس حدیث کو صحیح قرار دیا گیا ہے چنانچہ شہاب على البیضاوی نے صاف طور پر لکھا ہے: و اما صحة الحديث فلا شبهة فيها لانه رواه ابن ماجه و غیرهم کہ حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ ابن ماجہ کے سوا اوروں نے بھی اسے روایت کیا ہے۔مختلف طریق سے وارد ہونے کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ چونکہ یہ حدیث علم غیب پر مشتمل ہے اسلئے کسی راوی کا ضعیف ہونا اس کی صحت پر قادح نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اس نے ایک کتاب پڑھی جس میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا گیا تھا مگر وہ اس کے مفہوم کو سمجھ نہ سکا اور عبارت پڑھ گیا۔میں نے کہا یہ کتاب مجھے دو میں اسی تمہاری کتاب سے یہ ثابت کر دوں گا کہ یہ حدیث صحیح ہے مگر اس نے کتاب دینے سے انکار کیا اور وہ نو جوان جو اس کے ساتھ کتا بیں اٹھا کر لایا تھا وہ بھی میری تائید کرنے لگا اور آہستہ سے اپنے ساتھی کو کہنے لگا اس کے دماغ میں کچھ خلل ہے یہ دوسرے کی بات کو کیوں نہیں سنتا۔جب جانے لگا تو کہہ گیا۔اب میں نے حجت تمام کر دی ہے اب یہاں مجھے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد نہیں آیا۔الحمد للہ کہ دو اور شخص سلسلہ میں داخل ہوئے۔الفضل قادیان 14 دسمبر 1926ء) گیارہ روپے کی موم بتیاں اور عالمگیر جلسوں کے برقی قمقمے آج سے قریباً 85 سال قبل 1925ء کے جلسہ سالانہ قادیان پر روشنی کے انتظام کیلئے موم بتیوں پر گیارہ روپے خرچ آئے۔آج 2010ء میں یہ سوچ کر کتنا لطف آتا ہے کہ اس وقت جبکہ برقی رو کا انتظام نہیں تھا گیارہ روپے کی شمعیں ہی کافی ہوتی تھیں۔اب تو اللہ کے فضل سے کل عالم میں جماعت احمدیہ کے بیسیوں جلسے منعقد ہوتے ہیں جن پر روشنی کے انتظام پر ہزاروں کیا بلکہ لاکھوں روپیہ خرچ ہوتے ہیں لیکن ان گیارہ روپوں کی ایک اپنی شان تھی جو 1926ء کے جلسہ کیلئے جماعت دمشق نے ناظر صاحب