حیات شمس — Page 167
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 167 باقی نغمے بھول جائیں۔الحمد للہ کہ تقریب افتتاح پر جیسا کہ انگلستان کے پریس نے نہایت شوق سے حصہ لیا ویسے ہی عربی پریس نے بھی خبر افتتاح مسجد لنڈن کا پر جوش استقبال کیا اور لمبے چوڑے مضامین شائع کئے جس کی وجہ سے عربی علاقہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی خبر پہنچی اور جماعت احمدیہ کی خدمات دینیہ کا اعتراف لوگوں کے کانوں تک پہنچ گیا ہے۔یہاں پر میں مصرو حلب وغیرہ کے اخبارات کو چھوڑتا ہو ا دمشق اور بیروت کے ان اخباروں کا نام درج کرتا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اور ان میں اس تقریب پر مسجد کے متعلق مضامین شائع ہوئے ہیں اور وہ یہ ہیں : فتى العرب، المقتبس، الراي العام الف باء، المصور، البلاغ، الاحرار، الشرق، ابابيل، الكشاف الوطنی۔اسی طرح مصر کے اخباروں میں اور رسالوں میں اس کا ذکر بکثرت آیا ہے اور رسالہ اللطائف ،مصورہ مصر میں مسجد کا نہایت عمدہ خوبصورت فوٹو شائع ہوا ہے۔ایک شیخ کا مکالمہ مکر می سید عابدین بیگ صاحب جورؤساء دمشق سے ہیں ان کے مکان پر چونکہ اکثر اوقات رات کے وقت لوگ جمع ہوتے ہیں میں بھی ان کے پاس جایا کرتا ہوں اور سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ایک شیخ کو جو نہایت ہی متعصب ہے میرے ان کے پاس جانے اور انکو مطالعہ کیلئے کتا بیں دینے کا پتہ لگ گیا تو اس نے ان سے کہا کاش وہ جس وقت یہاں ہو مجھے بھی پتہ لگ جائے تو میں اس کی موجودگی میں احمدیت کی حقیقت ظاہر کروں۔چنانچہ اس ہفتہ بعض احباب ان کے مکان پر جمع ہوئے جن میں ایک ڈاکٹر عبد القادر مصری تھے۔مجھے بھی انہوں نے بلوایا۔ڈاکٹر صاحب سے گفتگو شروع ہوئی۔اتنے میں وہ شیخ بھی جھومتا جھامتا متکبرانہ طریق سے کمرہ میں آداخل ہوا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔مجھ سے مخاطب ہوا اور کہا تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا تمہیں کیا ؟ میں کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔اتنے میں اس نے مکرمی عابدین بیگ صاحب سے ترکی میں کہا کہ یہ کافر ہے ضال ہے مغل ہے۔انہوں نے اسے روکا اور میری طرف سے جواب دیتے رہے۔آخر شیخ نے شیخی بگھاری اور غصہ میں آکر کتاب اٹھا کر ان سے کہا میں سر تو ڑ دوں گا۔تم کیوں اسکی حمایت کرتے ہو۔اس پر انہیں بھی سختی سے کام لینا پڑا اور غصہ میں آکر اسے کہا خبیث یہاں سے نکل جاؤ تمہیں کس نے بلایا ہے۔تم آداب مجلس سے بھی واقف نہیں۔اس پر زکریا بیگ نے انہیں