حیات شمس

by Other Authors

Page 146 of 748

حیات شمس — Page 146

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 146 استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ورنہ ایک مثال پیش کر دیں جس میں تو فی بمعنی تغییب استعمال ہوا ہے۔شیخ کیا قرآن مجید میں آیت مَانَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُفْسِهَا نہیں ہے۔احمدی: میں نے کب انکار کیا ہے کہ یہ آیت قرآن مجید میں نہیں ہے۔موجود ہے۔شیخ پس یہ آیت بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ والی آیت سے منسوخ ہوگئی۔احمدی: پہلے علماء احکام میں نسخ کے قائل تھے مگر ایسی اخبار میں نسخ کا قائل کوئی نہیں ہوا ہے مگر آپ اس مسئلہ کے موجد بنے لگے ہیں۔اس سے اللہ تعالیٰ کے علم میں نقص لازما آتا ہے۔جب آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اتاری اس وقت معلوم نہیں تھا کہ وہ تو آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔اس کو وفات یافتہ کیوں کہا جائے۔آپ کے اس قول کے موجب تو یوں ہوگا کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وہ وفات پاگئے اور کچھ عرصہ کے بعد یاد آیا نہیں وہ تو زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔تـعـالـى الله عن ذالک علواً كبيراً۔شیخ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ سے ظاہر ہے کہ مسیح مقتول ومصلوب نہیں ہوا بلکہ کسی اور شخص کو سولی پر لٹکا کر مارا گیا ہے۔احمدی اس بات کو مسیحی اور یہودی کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔واقعہ صیلب کے وقت یا تو یہودی حاضر تھے یا مسیحی۔وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جس کو صلیب پر لٹکایا گیا وہ بذاتہ مسیح تھانہ کوئی اور شخص مسلمان چھ سو سال کے بعد آئے۔وہ کہتے ہیں کہ جس کو صلیب پر لٹکایا گیا وہ مسیح نہیں بلکہ دوسر اشخص تھا۔پس موافق و مخالف جنہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ جوصیلب پر لٹکایا گیا وہ بعینہ مسیح ہے چھ سو سال کے بعد آنے والے کے قول کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں بلکہ وہ اس امر کو بطور حجت پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو اس میں خلاف واقعہ بات نہ پائی جاتی۔دوسرے جس کو مارا گیا وہ مسیح کی شکل پر تھا۔یہود نے اس کو مسیح خیال کیا اور اصل مسیح کو آسمان پر جاتے ہوئے نہ دیکھا۔جس کو پکڑ اوہ یہ نہیں کہتا تھا کہ میں مسیح نہیں ہوں۔پس یہود عند اللہ مسیح کی تکذیب کرنے میں بری ہونے چاہئیں کیونکہ انہوں نے اپنے زعم میں مسیح کو صیلب پر مار دیا۔شیخ اچھا تو آپ اس آیت کے کیا معنی کرتے ہیں۔