حیات شمس — Page 138
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 138 ہیں ایک نئی شکل کی عربی حکومت بنی ہے اس میں بعض میرے دوست بھی ہیں۔لوگوں نے پہلا سوال جو اٹھایا ہے وہ یہ کہ یا مجھے قتل کر دیا جائے یا نکال دیا جائے۔مجلس کو اور اس کاغذ کو میں دیکھ رہا ہوں۔خاصی دیر کے بعد وہ فیصلہ کا کا غذ میرے سامنے آتا ہے کہ مولوی جلال الدین صاحب کو انگریزی قانون کے ماتحت تبلیغ کرنے کی اجازت ہے۔وہ گاؤں میں پھر کر تبلیغ کر سکتے ہیں مگر احتیاط سے۔“ اس رویا میں دمشق کی بربادی و تباہی کی جو خبر دی گئی تھی وہ کمال صفائی سے پوری ہوئی۔چونکہ یہ بلاء صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہے اس لئے خادم مسیح موعود کوقبل از وقت اس سے مطلع کیا گیا۔۔۔۔۔وہ گھڑی آتی ہے جب عیسی پکاریں گے مجھے تو تھوڑے گئے دجال کہلانے کے دن ره دمشق میں تبلیغ احمدیت الفضل قادیان 24 نومبر 1925ء) اپنی مساعی ہائے جمیلہ کے بارہ میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس تحریر فرماتے ہیں: ٹریکٹ حقائق عن الاحمدیہ شہر دمشق کے علاوہ حلب، بیروت، بیت المقدس، نابلس، مدینه منورہ اور دیگر بلا دعربیہ میں بذریعہ ڈاک روانہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب نے عیسائیوں کے خلاف اخبار العلم میں جس کا مالک وایڈیٹر ایک عیسائی ہے ،سلسلہ مضامین شروع کیا ہے اور ایک پادری نے جواب دینا شروع کیا ہے مگر اس کے جوابات کو پڑھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ یہ محض اس لئے کیا جارہا ہے تا لوگ یہ سمجھیں کہ جواب دیا گیا ہے ورنہ مجیب خود بھی اپنی کمزوری محسوس کر رہا ہے۔علاوہ ازیں غیر احمدیوں کے خلاف بھی مسئلہ نبوت وغیرہ کے متعلق اخبارات میں مضامین شائع کئے گئے ہیں۔اب مشائخ نے بھی مخالفت شروع کر دی ہے ایک مدعی شیخیت نے حـقـائـق عـن الـاحمدیہ کے جواب میں دو ورقہ اشتہار شائع کر کے عام لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکانا چاہا اور لکھا کہ یہ لوگ نیا دین پھیلاتے ہیں اس لئے جس طرح تم سے ہو سکتا ہے ان کا مقابلہ کرو ہاتھ سے ہو سکے ہاتھ سے ورنہ زبان