حیات شمس — Page 131
حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ہی چاہتا تھا اندر تشریف لے آئیں۔قہوہ پیئیں اور میں آپ کو دکھاؤں کہ میری رات کیسے گذری۔ہم اندر گئے تو انہوں نے رسالہ الحقائق عن الاحمدیہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ رسالہ میرے ہاتھ میں تھا اور غصہ میں باہر آیا اور پختہ ارادہ کیا کہ اس رسالہ کا رڈ شائع کروں۔میں نے حدیث اور تفاسیر کی کتب جو میرے پاس تھیں وہ میز پر رکھ لیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر رڈ لکھنا شروع کر دیا۔ادھر سے رسالہ پڑھتا اور رڈ لکھنے کے لئے کتا بیں دیکھتا۔ایک رڈلکھتا اس میں تکلف معلوم ہوتا اسے پھاڑا پھر ایک اور رڈلکھتا اور اسے بھی پھاڑا اور اسی طرح رات بہت گذر گئی۔بیوی نے کہا رات بہت گزرگئی آرام کر لیں۔میں نے کہا سید زین العابدین نے مجھے بہت ذلیل کیا ہے اور میں یہ رڈ لکھ کر سوؤں گا۔چنانچہ صبح کی اذان ہوئی اور میں رڈ لکھنے کے بعد اس طرح کاغذ پھاڑتا جاتا اور چمنی کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھو ڈھیر۔جب الله اکبر کی آواز میرے کان میں پڑی تو میرے نفس نے مجھے کہا صداقت بہت بڑی شئے ہے اور تمہارا اس طرح بناوٹ سے رڈ کرنا درست نہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب ایک کلمہ مخالفت کا مجھ سے نہیں سنیں گے۔آپ کے خیالات سراسر اسلامی ہیں اور آپ آزادی سے تبلیغ کریں اور پوچھنے والوں سے میں آپ کے حق میں اچھی بات ہی کہوں گا لیکن میں آپ کے فرقہ میں داخل نہیں ہوں گا کیونکہ فرقہ بندی سے مجھے نفرت ہے۔ہمیں یہ سن کر خوشی ہوئی حضرت خلیفہ امیج ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا تھا کہ شیخ عبدالقادر صاحب المغر بی کا جواب اپنے مبلغین کے ذریعہ سے دوں گا چنانچہ یہ جواب دیا گیا اور مغربی مرحوم آخر دم تک جماعت کی تعریف ہی کرتے رہے اور کوئی کلمہ ہمارے خلاف نہیں کہا بجز اس کے کہ فرقہ بندی سے متعلق اُن کا جو پرانا خیال تھا کہ ان فرقہ بندیوں نے اسلام کو تباہ کیا ہے، الگ فرقہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔الحمد للہ کہ بلاد عربیہ کی تبلیغ کیلئے ایک مرکز دمشق میں قائم ہوا اور دوسرا فلسطین میں۔شمس صاحب نے اور دیگر مبلغین نے جو خدمات انجام دیں وہ ہمارے اخبارات [ الفضل، بدر الحکم، فاروق وغیر ہم میں مذکور ہیں۔“ 66 131 ( حضرت سید ولی اللہ شاہ مؤلفہ احمد طاہر مرزا، باراول، ربوہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان 2004 ء۔صفحات 26-30) شام میں احمد یہ دار التبلیغ کے بارہ میں حضرت ولی اللہ شاہ صاحب مزید بیان فرماتے ہیں : ملک شام میں احمدیہ دار التبلیغ کی ابتداء اس وقت ہوئی جب 4 اگست 1924ء کو حضرت