حیات شمس — Page 129
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 129 سیاست کے طرف مائل ہیں دین کے طرف سے بالکل غافل ہیں۔لباس وغیرہ میں یورپ ان پر غالب آیا ہوا ہے۔اشیاء بہت گراں ہیں اور مکانوں کے کرایے بھی بہت ہیں۔آخر میں درخواست ہے کہ احباب اپنے غریب الوطن بھائیوں کے لئے ضرور دعا کریں۔جب تک اللہ کا فضل شامل نہ ہو اور اس کی قدرت کا ہاتھ ہماری تائید نہ کرے تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے اس لئے ملک شام میں احمدیت کی اشاعت کے لئے درد دل سے دعا کریں۔والسلام خادم محتاج دعا۔جلال الدین از دمشق۔الفضل قادیان 18 اگست 1925ء) یہاں ایک اہم تحریر پیش کرنا مناسب ہوگا جو بلا دعربیہ کے ابتدائی مبلغ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی ہے۔آپ اپنی خود نوشت سوانح میں تحریر کرتے ہیں : 1925ء میں (میں) اور شمس صاحب بلاد عربیہ کو تبلیغ کیلئے دمشق بھیجے گئے۔اس بارہ میں حضور کا ارشاد الفضل گیارہ جولائی 1925 ء میں شائع ہوا ہے۔دمشق میں میں تبلیغ کے مرکز قائم کرنے کی غرض سے چھ ماہ کے قریب مقیم رہا۔اس اثناء میں یہ ضرورت محسوس کر کے کہ زیر تبلیغ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام دیکھنے کی خواہش ہے ”کشتی نوح کا ترجمہ کیا اور اس سے قبل ” اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا ترجمہ ہوکر شائع ہو چکا تھا لیکن ان ممالک میں اس کی اشاعت بہت محدود تھی اور اب دمشق میں اس کتاب کی بھی اشاعت ہوئی۔علاوہ ازیں مسئلہ حیات مسیح سے متعلق ایک مبسوط کتاب بعنوان "حياة المسيح و وفاته من وجهاته الثلاثة “ شائع کی گئی اور اس کے علاوہ ایک رسالہ بعنوان ” الحقائق عن الاحمدیہ‘ بھی شائع کیا گیا۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی 1924ء میں لندن تشریف لے گئے ہیں تو آپ جاتے ہوئے دمشق میں بھی ٹھہرے ہیں۔میرے ایک قدیم دوست شیخ عبد القادر المغر بی بھی حضور سے ملے۔یہ ایک چوٹی کے ادباء میں سے تھے۔حضور کی باتیں سن کر انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ ان کا ملک دین سے خوب واقف ہے۔عربی ان کی زبان ہے۔یہاں آپ کی تبلیغ کا اثر نہیں ہوگا۔بہتر ہے کہ افریقہ میں کوشش کی جائے۔حضور نے اسی وقت پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ لندن سے واپسی پر اس کا جواب دمشق میں مبلغ بھیج کر دیا جائے گا۔