حیات شمس — Page 120
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 120 لگے، ڈھول بجنے لگا ایک ہنگامہ شروع ہو گیا اور میں از راه ترحم و ہمدردی مولوی صاحب کے پاس حفاظت کیلئے کھڑا رہا اور ویسے ہی چونکہ نو جوانی میں میرا جسم بہت مضبوط تھا میں نے سوچا کہ اس نوجوان مولوی صاحب سے کہوں آپ یہاں سے چلے جائیے اب تو کوئی سنتا ہی نہیں کہ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ شور بڑھتا گیا اور پتھراؤ شروع ہو گیا۔پس میں نے اس جماعت کے نوجوان مولوی صاحب سے آگے بڑھ کر کہا کہ اب تو پتھر بھی پڑنے شروع ہو گئے ہیں آپ میرے ساتھ آئیں میں حفاظت سے آپ کو باہر لے جاتا ہوں۔تب اس نوجوان مولوی نے بڑے ایمان افروز لہجہ میں کہا جس نے میرے دل کو ہلا دہا: آپ کی حفاظت کا شکریہ۔آپ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے دو ایک پتھر پڑ بھی گئے تو کیا ہے مگر ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک یہ سب لوگ یہاں سے نہ چلے جائیں ورنہ کہیں گے مرزائی بھاگ گئے۔‘ شور ہوتا رہا پھر پڑتے رہے اور آہستہ آہستہ لوگ ڈھول بجاتے ہوئے وہاں سے چل دیئے۔تب میں ان مولوی صاحب سے ملا۔انہوں نے مجھے قادیان آنے کو کہا۔اس نوجوان مولوی کا نام حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ہے۔تب میں نے قادیان جا نا شروع کر دیا اور چند ملاقاتوں کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔افسوس مجھے تاریخ یاد نہیں۔غالباً 1920ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔“ میری عمر اس وقت دس بارہ سال کی ہوگی جب میرے دادا بستر مرگ پر پڑے تو میرے والد صاحب نے اپنے والد کی علالت کے مد نظر اپنی ملازمت میں درخواست دے کر اپنا تبادلہ وزیر آباد کے اسٹیشن پر کروالیا تا کہ اپنے والد کی مناسب دیکھ بھال کر سکیں۔میرے آباء گجرات کے رہنے والے تھے جو کشمیر سے ہجرت کر کے یہاں مقیم ہوئے۔دادا کا گھر گجرات میں تھا اور میرے والد صاحب نے بھی اپنا گھر الگ دس پندرہ منٹ کے فاصلہ پر بنایا ہوا تھا۔میرے دادا پیٹ کی تکلیف سے ڈیڑھ سال بیمار رہ کر فوت ہوئے۔والد صاحب دادا کی خود خدمت کرتے اور والدہ کو بہت کم کہتے۔وہ اپنی ڈیوٹی وزیر آباد میں ختم کر کے اگلی گاڑی لے کر گجرات آجایا کرتے اور پھر گھر میں ذرا آرام کرنے کے بعد مجھے ساتھ لے کر دادا کی خدمت کیلئے ان کے گھر چلے جاتے۔مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں نے اپنے والد کو اپنے دادا کی خدمت کرتے دیکھا۔خدمت کے طرح طرح کے نظارے دیکھنے میں آئے۔اسی سلسلہ میں اپنی زندگی کا اہم ترین واقعہ بیان کرتا ہوں۔66