حیات شمس — Page 111
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 111 1/2/1925 تاریخ کو جادہ میں غیر احمدیوں سے مباحثہ ہو ا جس میں احمد یہ جماعت کی طرف سے خاکسار اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین داماد مولوی محمد حسین بٹالوی تھا اور یہ مباحثہ اس وجہ سے قرار پایا تھا کہ وہاں دو آدمی احمدی تھے اور نئے تھے۔غیر احمدی انہیں احمدیت سے تو بہ کرنے کے لیے مجبور کرتے تھے تو انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم جلسہ کرو ہم بھی اپنے علماء منگوائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مباحثہ ہوا اور دو اور شخص بھی سلسلہ میں داخل ہو گئے۔3 فروری 1925ء تاریخ کو جب میں رامپور تقریر کے لئے گیا تو حافظ (جادہ کے ایک نواحمدی حافظ ) نے مذکورہ بالا واقعات سنائے اور اس کے بعد بیعت کا خط بھی لکھوایا۔یہ نو بجے کا وقت تھا اور رات کو ان ہزیمت خوردہ مولویوں نے اس حافظ کو اپنے ساتھ ملا کر جلسہ کر کے احمدیت سے توبہ کا اعلان کرایا مگر ایک شیعہ نے جو اس کی بیعت کے خط لکھوانے کے وقت حاضر تھا ان کے جلسہ میں کہا۔اندھا جھوٹ بولتا ہے اسی نے خط لکھوایا ہے۔مسائل کے متعلق تو اس کی کوئی گفتگو ہی نہیں ہوئی۔دوسرے دن رات کے وقت میں نے وہاں تقریر کی اور وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوْا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ( آل عمران : 73) کی تفسیر کی اور بتایا کہ دیکھو! کیا اب بھی کوئی ان علماء کے یہود ہونے میں شک باقی رہ گیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ نابینا حافظ انہیں کا سکھایا ہو اتھا اور وجہہ النہار نو بجے کے قریب کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں اور آخرہ رات کے وقت جا کر انکار کر دیا۔رہا جماعت میں داخلہ، تو وہ خط ہی ہم نے ارسال نہیں کیا اور جماعت میں تو تب داخل ہو سکتا تھا کہ بیعت کی منظوری بھی آجاتی۔(الحکم قادیان 21 جولائی 1938ء) مباحثه ویلی یہ مباحثہ حضرت شمس صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب اہل حدیث کے مابین ختم نبوت کے موضوع پر ہو ا جس میں خدا تعالیٰ نے حضرت شمس صاحب کو نمایاں کامرانی سے ہمکنار فرمایا۔مناظرہ کے بعد مخالفین بھی کہہ رہے تھے کہ مقابل پر مولوی صاحب بہت کمزور تھے اور یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آج تو خوب احمدیوں کا اثر قائم ہو گیا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے لگائے ہوئے پودے کی خود آبیاری فرماتا ہے اور کسی میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کو (الفضل قادیان 28 مارچ1925ء) نقصان پہنچائے۔