حیات شمس — Page 105
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 105 ساہوکار عالم پور اور خانصاحب عزیز الرحمن خانصاحب کا دل و جان سے مشکور ہوں اور دیگر احباب کی بھی مہربانیوں کا مشکور ہوں۔خدا ان کو جزائے خیر دے۔مباحثہ نوشہرہ - (الحاکم قادیان 14 اکتوبر 1920ء) یہ مباحثہ ایک آریہ مناظر مہاشہ گیان بھکشو اور حضرت مولانا شمس صاحب کے مابین ہو ا جس پر آپ نے مندرجہ ذیل سوال کئے : ا۔وید کے الہامی اور ازلی ہونے کا ثبوت دیں۔۲۔وید تین ہیں یا چار۔۳۔وید کن اعمال کے نتیجہ میں ملے۔۴۔رشیوں کی خصوصیات کیا ہیں وغیرہ۔جب مہاشہ جی کوئی جواب نہ دے سکے تو گھبرا کر بول اٹھے کہ۔” قادیانی بزرگوں نے اعتراضات کی ایک لسٹ تیار کر کے لونڈے ہمارے پیچھے لگا دئے ہیں مباحثہ کا لوگوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔مسلمانوں میں اس تقریب سے فائدہ اٹھا کر تبلیغ سلسلہ بھی کی گئی۔(الفضل قادیان 8 مئی 1922ء) مباحثہ صداقت مسیح موعود اس مباحثہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس جبکہ غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب شامل تھے۔یہ مباحثہ 21 جون 1922 ء کو ہوا۔الفضل قادیان 20 جولائی 1922 ء ) مباحثہ امرتسر یہ مباحثہ حضرت حافظ روشن علی صاحب نے 23 اکتوبر 1923ء کو آریہ مناظر پنڈت بھگوت دھت بی اے پروفیسر ڈی اے او کالج لاہور سے کیا لیکن گلے میں تکلیف ہو جانے کی وجہ سے دوسرے دن یکم نومبر کو حضرت شمس صاحب کو مناظرہ کیلئے مقرر کیا گیا۔چنانچہ حضرت شمس صاحب نے آریہ مناظر کے اعتراضات کا رد کیا۔آریہ مناظر نے وید کے مکمل اور الہامی ہونے کے متعلق تقریر کی اور بتایا کہ ایشور و چار والی ہستی ہے اور یہ مسلمہ امر ہے کہ وچار کی ادائیگی ضرور کسی بھاٹا میں ہونی چاہئے اس لئے ایشور کے وچار کی ادائیگی اسی کی زبان میں ہوگی کیونکہ انسانوں کی زبان ناقص ہے