حیات شمس — Page 100
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 100 اثناء میں میرے مکرم مولوی فاضل نور احمد صاحب ساکن لودھی نگل بھی ایک بیمار کے علاج کیلئے قریہ مذکورہ میں پہنچ گئے۔محمد اسماعیل صاحب سے آپ کی گفتگو ہوئی تو اسے کچھ جواب نہ بن آیا۔تب غیر احمدیوں نے قصبہ فتح گڑھ چوڑیاں سے مولوی عبدالحی اور مولوی عبد اللہ صاحب مولوی فاضل اور مولوی صدرالدین کو بلایا اور احمدیوں سے کہا ہم مولوی ثناء اللہ امرتسری کو لائے ہیں آپ بھی قادیان سے علماء منگوائیں۔اسی قرارداد پر دو احمدی 30 اگست 1920ء کو قادیان دار الامان آئے تاکہ ان کے ساتھ کوئی عالم بھیجا جائے۔میں کلانور کے مباحثہ سے ( جو 28 اگست 1920ء کو ہوا)، آتے اپنے گاؤں ( سیکھواں ) میں ٹھہر گیا اس لئے وہ دونوں بھائی میرے گاؤں میں جناب امیر جماعت احمدیہ قادیان کا رقعہ لیتے ہوئے پہنچے۔میرا ارادہ اس دن قادیان آجانے کا تھا۔جب رقعہ دیکھا تو اس میں یہ لکھا تھا: مکرم بندہ مولوی جلال الدین صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔آج دو آدمی جن کے ہاتھ یہ رقعہ روانہ کیا جاتا ہے سار چھو رسے یہاں پہنچے۔وہاں یعنی سار چور میں مباحثہ کیلئے ایک عالم کی ضرورت ہے۔تجویز کیا گیا ہے کہ آپ ان کے ہمراہ تشریف لے جاویں۔خدا آپ کے ساتھ ہو“ یہ رقعہ پڑھتے ہی بندہ اور حافظ سلیم احمد خان اٹاوی بتوکل علی اللہ اس طرف چل دیئے۔ہم بٹالہ پہنچے ہی تھے کہ آفتاب نے شفق کی چادر اوڑھ لی اور شب کی آمد شروع ہوئی۔سار چھ روہاں سے نومیل کے فاصلہ پر تھا اس لئے تجویز پیش ہوئی کہ رات بٹالہ میں قیام کرتے ہیں علی الصبح روانہ ہوں گے۔میں نے کہا ہمیں وہاں ضرور پہنچنا چاہئے تا ہمارے احمدی بھائیوں کو کسی قسم کی تشویش نہ ہو۔چنانچہ رات ہی کو ہم وہاں پہنچ گئے۔جھوٹی افواہیں پھیلانے والے شرمندہ ہوئے۔“ (مباحثہ سار چور ( مسئلہ حیات و ممات مسیح ناصری)، بار اول، قادیان: مطبع ضیاء الاسلام پریس 1920ء - صفحہ 1-2) اس مباحثہ کے بارہ میں مکرم و محترم مرزا بشیر احمد صاحب مرحوم آف لنگر وال پشاور چھاؤنی تحریر کرتے ہیں: 1920ء میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان بمقام سار چو رضلع گورداسپور ایک تاریخی مناظرہ حیات و ممات حضرت مسیح علیہ السلام پر ہو ا تھا۔میں ان دنوں اہلحدیث تھا اور فتح گڑھ چوڑیاں کے اہل حدیث کے سکول میں پڑھتا تھا۔غیر احمدیوں کی طرف سے مناظر مولوی محمد عبد اللہ صاحب فاضل فتح گڑھی اور پریذیڈنٹ مولوی عبد الحی صاحب تھے اور