حیات شمس — Page 90
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 90 90 اللہ تعالیٰ صحت اور کام کی زندگی عطاء کرے پھر خصوصیت کے ساتھ یہ بھی دعا فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے قیامت کے دن اپنے فضل و کرم اور ذرہ نوازی سے ان لوگوں میں شامل فرمائے جو مطابق بشارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حساب کتاب کے بغیر بخشے جائیں گے کیونکہ مجھ میں اپنے حساب کتاب کیلئے خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی طاقت نہیں۔یہ دو دعا ئیں ضرور رمضان میں میرے حق میں کر کے مجھے ممنون فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔یہ عاجز ساری جماعت کیلئے دعا کرتا ہے۔مطابق آیت وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الجِنَّةَ هِيَ الاولى [ النازعات:41] مرحوم و مغفور کے مذکورہ بالا الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ آپ واقعی جنتی تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات عطاء فرمائے۔آمین۔حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب کا ذکر خیر الفضل ربوہ 29 اکتوبر 1963 ، صفحہ 14-16) اپنے استاد محترم حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب کے وصال پر حضرت مولانا شمس صاحب نے ایک مضمون لکھا جو پیش خدمت ہے۔(از حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) حال میں مکرم استاد حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات کی افسوسناک خبر پہنچی۔إِنَّا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس بخشے آمین۔حضرت آپا جان سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ غفر اللہ لھا کی وفات کے بعد ایک دوسرا عزیز وجود ہم سے جدا ہو گیا۔یہ دونوں وجود یتامی ، مساکین ، بیواؤں اور غریبوں کی خبر گیری اور خدمت گذاری کے لحاظ سے جماعت میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔حضرت میر صاحب مرحوم نے حضرت نانا جان [ حضرت میر ناصر نواب صاحب کی وفات کے بعد دُور الضعفاء کے قائم رکھنے اور ضعفاء و یتامیٰ کی خبر گیری میں از حد دلچسپی لی۔مرحوم اکثر مبلغین کے جو اس وقت مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں، استاد تھے۔میں نے اور میرے ہم جماعت دوستوں نے تو مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت سے لے کر مولوی فاضل تک ان سے تعلیم پائی۔آپ کا طریقہ تعلیم نہایت اچھا تھا۔جو مضمون بھی پڑھاتے شاگردوں کے ذہن نشین کرا دیتے۔آپ کے تمام شا گرد آپ سے خوش رہتے تھے۔اس وقت آپ کے مناقب کا ذکر کرنا مقصود نہیں کیونکہ اخبار میں اس