حیات شمس — Page 623
حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 591 میں نے ایک دفعہ عرض کیا کہ آپ بیماری میں بھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے قابل سے قابل بزرگ علماء آپ کے پاس ہیں عارضی طور پر اپنا کچھ کام ان میں سے کسی ایک کے سپرد کر دیں۔مسکرا کر کہنے لگے ”میں اپنا کام جب تک خود نہ کروں مجھے تسلی نہیں ہوتی۔اگست 64ء میں جب خرابی صحت کی وجہ سے آپ کچھ دنوں کیلئے کو ئیہ تشریف لے گئے تو راقم الحروف نے ان کو لکھا کہ آپ کی صحت ایسی ہے کہ اس حالت میں کوئی دماغی کام کرنا مناسب نہیں، اپنے دل و دماغ کو آزاد رکھیں اور اپنی صحت کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔آپ کے بیوی بچوں کا آپ پر حق ہے، قوم کا آپ پر حق ہے، ان کی خاطر اور آئندہ زیادہ کام کرنے کے لئے اپنی صحت کو عمدہ بنانے کی کوشش کریں۔میری اس چٹھی کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: آپ کی نصیحت تو اپنی جگہ پر ٹھیک ہے مگر پروگرام پر پروگرام بنتا چلا جارہا ہے۔چار پانچ تقریریں تو کر چکا ہوں۔اگلے جمعہ کو حیدرآباد جانا ہے اور اتوار کو سیرۃ النبی کا جلسہ کرنا چاہتے ہیں تھی سوفیکل ہال میں۔تین چار روز سخت زکام رہا اور اسی حالت میں خطبہ جمعہ ایک گھنٹہ اور سیرۃ النبی کے جلسہ میں تقریر ڈیڑھ گھنٹہ اور اطفال کے اجتماع میں تقسیم انعامات کے موقعہ پر افتتاحی تقریر کرنا پڑی۔جو دوست گفتگو کے لئے آتے ہیں انہیں بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ان سطور سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قدر مصروف تھی ان کی زندگی۔کوئٹہ اور کراچی کے احباب خوب جانتے ہیں کہ ان دنوں اُن کو کس قدر مصروفیت ہوتی تھی تکلیف پر تکلیف ہے مگر کام پر کام کرتے چلے جارہے ہیں کسی کام سے انکار کرنا ان کی عادت میں داخل نہ تھا۔کراچی تھیوسوفیکل ہال، کوئٹہ منٹگمری ، اوکاڑہ ، لاہور وغیرہ بڑے بڑے شہروں میں روٹری کلبوں میں ان کی تقریریں ہوئیں۔ان کلبوں میں اعلی تعلیم یافتہ اور اونچے طبقہ کے سرکاری اور غیر سرکاری لوگ شامل ہوا کرتے ہیں۔سامعین پر ان کی تقریر کا نہایت گہرا اثر ہوا کرتا تھا بعض لوگ سوال کرتے آپ نہایت عالمانہ جواب سے سائل کو مطمئن کر دیتے۔ہر جگہ ایسا ہوا کہ غیر احمدی شرفاء نے خواہش کی کہ ایسی تقریریں ضرور ہونی چاہئیں۔ایک جگہ جب حضرت مولوی صاحب نے جماعت احمدیہ کے ممالک بیرون میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی کارگزاریاں اختصار کے ساتھ بیان کیں تو سامعین سُن کر حیران ہوئے اور خوش بھی۔بعض نے کہا کہ آپ لوگ خدمت اسلام کا ایسا شاندار کام کر رہے ہیں اور لوگوں کے سامنے 66 آپ پیش ہی نہیں کرتے یہ تو جماعت کا بڑا کارنامہ ہے اس کو مسلمانوں کے سامنے بار بار پیش کرنا چاہیے۔حضرت مولوی صاحب کا طرز بیان ایسا ہوا کرتا تھا کہ مشکل سے مشکل مسئلہ آسان سے آسان پیرائے میں سمجھا دیتے۔طالب علمی کے زمانہ میں ہی ملک کے مشہور اور احمدیت کے اشد ترین مخالف علماء