حیات شمس — Page 622
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 590 چراغ سے دوسرا چراغ روشنی حاصل کرتا ہے اسی طرح ان برگزیدہ لوگوں سے بہتوں نے نور حاصل کیا جنہوں نے پھر آگے نور اسلام کو ترقی دی۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی اُن قدسی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقدس زمانہ پایا اور حضور کے خلفاء اور بزرگ صحابہ سے فیوض و برکات حاصل کئے۔حضرت مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خاص علم وفضل سے نوازا تھا۔غیر معمولی ذہانت و فراست کے مالک تھے جنہوں نے نصف صدی تک تبلیغ اسلام اور میدان مناظرہ میں ایک کامیاب جرنیل کی حیثیت میں کام کیا۔حضرت مولانا صاحب کو خلافت ثانیہ میں جو مقام حاصل رہا ہے وہ احباب جماعت سے پوشیدہ نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان کے علم و فضل ، ذہانت و فراست اور فدائیت کی وجہ سے خالد احمدیت کے خطاب سے نوازاتھا۔حضور کی بیماری کے ایام میں جماعت کی تربیت سے متعلق اہم کام حضرت مولانا صاحب سرانجام دیتے تھے۔شدید گرمی ہو یا سردی ، آندھی ہو یا بارش شمس صاحب پانچوں وقت مسجد مبارک میں آ کر نمازیں پڑھایا کرتے تھے۔نماز جمعہ، نماز عیدین، نماز خسوف وکسوف ،نماز استسقاء،نکاح، جنازے وغیرہ اکثر حضور کی اجازت سے حضرت شمس صاحب ہی پڑھایا کرتے تھے۔جلسوں کی صدارت کے لئے حضرت شمس صاحب کی خدمت میں گزارش کی جاتی۔ہر تقریب پر دُعا کے لئے سٹس صاحب پر نظریں ہوتیں۔ہر محفل کی رونق اور ہر مجلس کی شمع شمس صاحب ہوا کرتے تھے۔بیرونی جماعتیں بھی اپنی مجالس اور تقریبات میں شمس صاحب کو مدعو کرنے کی متمنی ہوتیں۔ایک ہی مسئلہ پر سلسلہ کے جید علماء اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور بظاہر مسئلہ کا کوئی پہلو ایسا نہیں رہا جس پر کچھ مزید کہا جا سکے مگر شمس صاحب اپنی تقریر یا صدارتی خطاب میں اس مسئلہ پر مزید تشریح کچھ ایسے رنگ میں کرتے کہ سامعین اپنے اندر ایک نئی جلا پاتے اور قلوب میں خوشی اور اپنے علم میں زیادتی محسوس کرتے۔شمس صاحب اپنے وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔گھر میں ہوں یا دفتر میں ، مرکز میں ہوں یا مرکز سے باہر مطالعہ میں مصروف یا تحریر کا کام کرتے۔اگر کبھی بیماری کی وجہ سے دفتر آ نہ سکتے تو امکانی حد تک گھر پر ہی بستر میں پڑے مطالعہ یا تحریر کا کام کرتے۔اگر بیٹھے بیٹھے تھک گئے مگر کام بدستور جاری ہے۔ایک دفعہ جب کہ آپ بیماری کی وجہ سے دفتر نہ آ سکے تو راقم الحروف بیمار پرسی کیلئے گھر پر گیا۔دیکھا کہ لکھنے پڑھنے کا سامان پڑا ہوا ہے اور خود لحاف اوڑھے پڑے ہیں داڑھی اور سر کے بال کچھ بکھرے پڑے ہیں مگر چہرہ دمک رہا ہے۔میں نے دل میں کہا ” گدڑی میں لعل ہے۔“