حیات شمس — Page 614
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس جذبہ سپاس گزاری سے بھر پور دل بدست دعا ہے کہ اے خدا بر تربت او بارش رحمت ببار داخلش کن از کمال فضل در بیت 582 نیز اس کے اعزہ واقارب اور دلی محبوں کو مع وابستگان پشت در پشت اپنی رحمت اور شفقت کے دائی سایہ میں رکھ اور انہیں مرحوم و مغفور کی خوبیوں سے وافر حصہ دے۔آمین یا رب العالمین۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس (ماہنامہ الفرقان شمس نمبر، جنوری 1968ء) مکرم صاحبزادہ جمیل لطیف صاحب آف شکاگو، نبیرہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید) یادوں کے دریچے ہے آج اس لمحہ اس شخصیت کو دیکھ رہا ہوں جسے حضرت امیر المومنین صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا۔مولانا کے بزرگوں نے آپ کا نام پچپن ہی میں جلال الدین رکھا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور خاص تائید و نصرت سے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء سے ایسا فیض پایا کہ علم و معرفت کے بلند مینار پر کھڑے ہو کر براہین اور دلائل سے تمام مخالفین کیا مخالفین اسلام کیا مخالفین احمدیت اور کیا منکرین خلافت سب کے منہ بند کر دیئے۔مشرق ہو یا مغرب ہر جگہ تحریر و تقریر ہر دو میدانوں میں وہ جو ہر دکھائے کہ بلا شبہ آنے والا مورخ خالد احمدیت مولانا جلال الدین شمس کی گراں قدر خدمات ، خلافت حقہ احمدیہ سے بے لوث محبت کو ہمیشہ جلی حروف میں تحریر کرے گا۔اسلام اور احمدیت کے لئے آپکی خدمات پر نظر ڈالتے ہوئے بجاطور پر کہا جا سکتا ہے کہ مولانا نے اپنے بزرگوں کی خواہشات اور توقعات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے نام کی خوب لاج رکھ لی۔محتر می مولانا شمس صاحب انتہائی سنجیدہ مگر خوش خلق طبیعت کے مالک تھے۔فطرتا آپ کم گو شخصیت کے مالک تھے مگر کسی سوال کا جواب دینا ہوتا تو قرآن شریف ، احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود سے ماخوذ حوالہ جات کے ساتھ خلفاء اور دیگر علماء کے حوالہ جات دینے میں کبھی اختصار سے کام نہ لیتے۔جس بھی محفل میں تشریف فرما ہوتے تو حاضرین کی کوشش ہوتی کہ آپ کی باتوں سے مستفید اور لطف اندوز ہوں اور یہ سلسلہ جلدی ختم نہ ہو۔