حیات شمس — Page 605
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 573 میں کسی بات پر جھگڑتے تو نہایت آرام سے سمجھاتے اور بعض دفعہ خاموش رہتے لیکن ہمیں آپ کی خاموشی میں بھی یہ محسوس ہوتا کہ آپ کو سخت تکلیف اور رنج ہے اس لئے ہم حتی الوسع آئندہ جھگڑنے وغیرہ سے رُکے رہتے۔آپ میں صبر کا مادہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ تھا کیونکہ آپ کو جب کبھی کوئی رنج ہوتا یا کوئی بات آپ کی مرضی کے خلاف ہوتی تو باوجود یکہ آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا لیکن آپ نہایت صبر و استقلال سے کام لیتے۔جس طرح اب میرے بڑے بھائی ڈاکٹر صلاح الدین شمس اور فلاح الدین شمس کو امریکہ میں اپنے عظیم والد کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا بعینہ والد صاحب کو بھی لندن میں حضرت دادا جان کی جدائی کا زخم کھانا پڑا تھا اور آپ نے نہایت صبر اور استقلال دکھلایا تھا۔والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلیل القدر صحابی ( جو کہ 313 صحابہ میں سے ہیں یعنی حضرت میاں امام الدین) کے فرزند جلیل تھے اور والد صاحب خود بھی صحابی تھے اور آپ خود ہی فرمایا کرتے تھے کہ میں اُس وقت چھوٹا سا تھا جب کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا تھا۔“ جب ابا جان پیدا ہوئے اور دادا جان آپ کو حضرت مسیح موعود کے پاس لے کر حاضر ہوئے تو ابا جان اوپر کی طرف ہی دیکھتے رہتے تھے تو اُس وقت حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ یہ ایک دن دین کی خدمت کرے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح وقت کا فرمان اور پیشگوئی نہایت شان سے پوری ہوئی۔عرب جہاں تبلیغ کرنا نہایت مشکل امر ہے۔حضرت خلیفہ ثانی کو ایک شخص نے کہا تھا کہ آپ کو عرب ممالک میں مبلغ بھجوانے کی ضرورت نہیں آپ دوسرے ممالک کی طرف ہی توجہ دیں کیوں کہ عرب میں آپ تبلیغ نہ پھیلا سکیں گے لیکن حضور نے والد صاحب کو بطور مبلغ عرب میں بھجوایا اور والد صاحب نے وہاں ایک ایسی مخلص جماعت پیدا کر دی کہ جن کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔محترم غلام باری صاحب سیف فرماتے ہیں کہ :” میرے نزدیک عرب ممالک میں سب سے بہترین احمدیت کو سمجھنے والے منیر الحصنی صاحب ہیں اور منیر احصنی صاحب والد صاحب کے ذیعہ ہی احمدیت کے باغ میں داخل ہوئے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ اس وقت منیر احصنی صاحب عرب ممالک میں احمدیت کے باغ کا ایک پھل نظر آتے ہیں۔اسی طرح عرب ممالک میں جو سب سے پہلی ہماری مسجد بنی اس کا سنگ بنیاد بھی والد صاحب نے رکھا تھا اور کہا بیر میں احمدیت کا آغاز آپ کے ذریعہ سے ہی ہو ا تھا۔والد صاحب وادی سیاح کبابیر میں جب آئے تو ایک بزرگ عبادت کیا کرتے تھے تو والد صاحب اُن کے پاس چلے گئے اور تبلیغ کرنے لگے۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگ آنے شروع ہو گئے اور آپ کو تبلیغ کرنے کا موقع مل گیا اور اس طرح