حیات شمس — Page 592
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس رور ہے ہیں۔پوچھنے پر بتایا کہ اس خط میں ان کے بھائی کی وفات کی خبر تھی۔560 ایک دفعہ بیت المقدس کے ایک مولوی شیخ محمد مقدسی آئے اور بیعت کر لی اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ ہی رہنے لگے۔میرے چچا کو ان کے بارہ میں کسی قدر انقباض ہی رہا۔ایک دن میرے چچانے خواب میں دیکھا کہ یہ مولوی سیڑھیوں پر بیٹھے ہیں اور عیسائی عورتوں کو بری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے جب یہ خواب مولانا جلال الدین صاحب شمس کو سنایا تو انہوں نے فوراً اس مولوی کو بوریا بستر گول کر کے رخصت ہو جانے کا حکم دے دیا۔اس وقت مولانا ابوالعطاء صاحب بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ ہم تو لوگوں کو احمدیت میں داخل کرتے ہیں اور آپ ان کو نکالے جاتے ہیں کیونکہ مولانا ابوالعطاء صاحب میرے چا کو جانتے نہیں تھے لہذا کسی وضاحت کے بغیر مولانا جلال الدین صاحب شمس دوسری طرف منہ کر کے ہنس دیئے۔دوسری طرف مذکورہ مولوی صاحب نے بستر بور یا لیا اورسیدھا گرجا گھر پہنچا اور عیسائی ہو گیا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس اس وقت کہا بیر سے گئے جب کہ آپ نے شام، فلسطین اور مصر میں جماعت قائم کر لی تھی اور متعدد قیمتی کتب تصنیف فرما ئیں۔پھر دوسری دفعہ آپ حیفا اس وقت تشریف لائے جب آپ برطانیہ سے کامیابی کے ساتھ اپنا کام مکمل کر کے واپس قادیان جارہے تھے تو راستہ میں دمشق اور فلسطین سے ہو کر گئے۔اس وقت آپ دمشق سے منیر الحصنی صاحب کو بھی ساتھ لے آئے تھے اور پھر ان کو قادیان بھی ساتھ ہی لے کر گئے۔آپ نے حیفا میں وہ مسجد دیکھی جس کا سنگ بنیاد آپ نے خود رکھا تھا اور آپ کے اعزاز میں کئی پارٹیاں ہوئیں اور نظم و نثر میں آپ کی تعریف میں بہت کچھ کہا گیا۔( تا ثرات حاصل کر دہ جولائی 2006 ء از مکرم منیر الدین صاحب شمس) خدا نما شخصیت مولانا عبدالعزیز بھانبڑی صاحب) آپ کا ایک دعائیہ واقعہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔1965ء کی بات ہے سید نا حضرت مصلح موعودؓ ان ایام میں صاحب فراش تھے۔حضرت مولانا موصوف قائم مقام ناظر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے اور جمعہ کے فرائض بھی آپ ہی ادا کرتے۔خاکسار کا بیٹا ان ایام میں لاہور میں زیر تعلیم تھا اور ہوٹل میں رہائش پذیر تھا۔اس کے امتحانات سر پر تھے کہ بیمار ہو گیا۔بچے نے مجھے کہا کہ میرے لئے دعا کریں میری تو کوئی تیاری