حیات شمس — Page 467
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 451 نے آپ صلم پر پتھر پھینکے، آپ کو زخمی کیا، یہ دعا کی تھی۔اللَّهُمَ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اے خدا تو میری قوم کو ہدایت دے۔یہ برا سلوک جو وہ مجھ سے کر رہے ہیں اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ مجھے نہیں جانتے۔ظاہر ہے کہ یہ دعا مسیح کی دعا سے زیادہ مکمل تھی کیونکہ ہدایت اسی وقت مل سکتی ہے جبکہ پہلے گناہ معاف ہو جائیں۔گویا اس میں ان کے گناہوں کی معافی کیلئے بھی آپ نے دعا کر دی۔پھر دونوں کی دعاؤں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ مسیح نے یہود کے گناہ کی سزا یہ بیان کی تھی کہ ان سے آسمانی بادشاہت چھین لی جائیگی۔وہ سزا انہیں مل گئی اور مسیح کے بعد ان سے کوئی نبی ظاہر نہ ہوا گویا مسیح کی یہ معافی طلب کرنے والی دعا بارگاہ الہی میں قبول نہ ہوئی۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا کی تھی وہ خدا تعالیٰ نے سن لی۔جب آپ نے مکہ فتح کیا اور سرداران قریش آپ کے رو برو پیش ہوئے تو آپ نے حضرت یوسف کی طرح ان کے گناہوں اور قصوروں کو معاف کر دیا اور پھر وہ اسلام لے آئے اور آپ کی یہ دعا کہ اے خدا میری قوم کو ہدایت دے اپنی پوری شان سے پوری ہوئی۔دفاعی جنگ پھر حضرت علیستی کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت ثابت کرنے کیلئے اس نے ان کی یہ تعلیم متی باب 5 آیات 38-39 سے پیش کی: " تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ، لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جوکوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔“ یہاں یسوع مسیح نے نرمی کی تعلیم دی اور جنگ سے منع کیا اور خون گرانے کو کبیرہ گناہ سمجھا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی اور ہزار ہا انسانوں کے خون بہائے۔میں نے کہا یہ تعلیم کہ شتر کا مقابلہ نہ کرو ناقص ہے۔اگر بدی کا مقابلہ نہ کیا جائیگا تو تمام دنیا میں بدی پھیل جائیگی۔لہذا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (سورة فصلت: 35) کہ نیکی اور بدی یکساں نہیں بلکہ یہ دو مختلف چیزیں ہیں اس لئے تجھے بدی کو احسن طریق سے مٹانا