حیات شمس — Page 4
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس مہینہ الحمد للہ گزر گیا۔عافیت اور تندرستی سے یہ دن حاصل رہے۔پھر اگلا سال خدا جانے کس کو آئے گا۔کس کو معلوم ہے کہ اگلے سال کون ہوگا۔پھر کس قدر افسوس کا مقام ہوگا اگر اپنی جماعت کے ان لوگوں کو فراموش کر دیا جائے جو انتقال کر گئے ہیں۔“ ( الحکم قادیان 6 مارچ 1898 صفحہ 2) یہ ایسے وقت میں فرمایا کہ جب فہرست میں زندوں کے نام ثبت ہو رہے تھے۔برکات کا زمانہ سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے صحابہ حضرت اقدس علیہ السلام کی قدر ومنزلت اور برکات خلافت کے بارہ میں 12 جنوری 1944ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہمیں ملا ہے اور ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم وقت پر اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں جس اہمیت کا سمجھنا ہمارے لئے دینی اور دنیوی برکات کا موجب ہو سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ تو گزر گیا۔اب آپ کے خلفاء اور صحابہ کا زمانہ ہے مگر یا درکھو کچھ عرصہ کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جب چین سے لے کر یورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے اس تلاش اور جستجو میں اور اس دھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات کی ہومگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات نہ کی ہوصرف مصافحہ کیا ہومگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو مصافحہ نہ کیا ہو صرف اس نے آپ کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا۔پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو مصافحہ نہ کیا ہو، آپ کو دیکھا نہ ہومگر کم از کم وہ اس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا۔لیکن آج ہماری جماعت کے لئے موقع ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے۔آج کے بعد میں