حیات شمس

by Other Authors

Page 422 of 748

حیات شمس — Page 422

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس تشریف لے جاچکے تھے۔مسٹر ہینڈرسن لکھتے ہیں : ” جب وہ واپس آئیں گے تو میں انہیں دکھاؤں گا۔-8 406 بریگیڈئیر الیف میڈ لیکاٹ سی۔بی۔ای۔رکن پارلیمنٹ مکرم مولوی شمس صاحب کے مکتوب اور دو ورقہ کی وصولی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔میں دو ورقہ کو توجہ سے پڑھ رہا ہوں“ 9۔لارڈ رینکلر لکھتے ہیں۔میں آپ کا بہت ہی ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے امام جماعت احمدیہ کی مطبوعہ تحریر بھجوائی ہے میرے یہ کہنے کا حاجت نہیں کہ مجھے ان کے اور آپ کے مقاصد سے ہمدردی ہے۔مشکلات گو بڑی ہیں تا ہم امید واثق ہے کہ سب کو خوش کن اور دیر پا کیلئے روشنی حاصل ہوگی“ ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی مسجد اقصیٰ کے منبر سے بلند کی ہوئی آواز ہزاروں میل کے فاصلہ پر سمندر پار جا پہنچی اور سلطنت برطانیہ کے عمائدین نے اس کی طرف توجہ کی۔خدا کرے جلد انگلستان اور ہندوستان دونوں ایک دوسرے کی طرف عملاً بڑھیں اور اپنے سابقہ اختلافات کو بھلا کر آپس میں مستقل سمجھوتہ کر لیں ( آمین )۔احباب جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس مبارک آواز کو، اس صلح کے پیغام کو دہراتے جائیں۔اس وقت تک کہ دونوں افتراق کی خلیج کو پاٹتے ہوئے باہم گلے نہ آملیں۔(الفضل قادیان 9 جون 1945ء) سید نا حضرت مصلح موعود کی جرمنی پر برطانیہ کی فتح کی پیشگوئی ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) مئی جون 1945ء میں] سب سے بڑا اہم تاریخی واقعہ برطانیہ کی فتح اور جرمنی کی شکست ہوئی ہے جو احمدیت کی صداقت کا ایک زبر دست نشان ہے اور اہل پیغام کیلئے اگر وہ غور کریں تو حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالی کے مقرب الی اللہ اور خلیفہ برحق ہونے کا قطعی ثبوت ہے۔میں یہاں اشتہارات کے ذریعہ اور اپنے خطبات میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے رویا اور کشوف کا ذکر کرتا رہا ہوں۔گزشتہ دسمبر میں بھی میں نے نئے سال کیلئے Greeting Cards پر مختصر طور پر وہ رویا اور کشوف چھپوائے تھے جن میں برطانیہ کی فتح کا ذکر تھا جو یہاں کے اکابر کو بھیجے گئے تھے۔جو شخص بھی