حیات شمس

by Other Authors

Page 381 of 748

حیات شمس — Page 381

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 365 ہیں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔اتفاقاً اس سے ایک دوروز پہلے میں انہیں خطبہ الہامیہ کا ایک حصہ سنا چکا تھا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو ان باتوں کا پتہ نہیں میں دریافت کروں گا لیکن مہدی کی کتاب میں نے سنی ہے اگر وہ انہی کی ہے تو وہ قرآن مجید کے بالکل مطابق ہے اور نبی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو بھیج سکتا ہے۔انہوں نے واپس آکر ان مسائل کے متعلق مجھ سے دریافت کیا۔میں نے تفصیل سے سب باتوں کے متعلق سمجھایا۔انہوں نے کہا اس میں تو شک نہیں کہ مہدی صادق ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اسے سچا ماننا چاہیے۔میں نے نماز کے مسئلہ کے متعلق کہا ہے کہ اصل اختلاف تو مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے متعلق ہے کہ آیا وہ اپنے دعوی میں بچے تھے یا نہیں۔اگر بچے تھے تو لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک شخص جسے خدا تعالیٰ نے مبعوث کیا اسے اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ لوگوں کی اقتداء کرے بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ دوسرے اس کی اقتداء کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دعا سکھلاتا ہے۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کہ ہمارے مقتدی بھی متقی ہوں چہ جائیکہ امام غیر متقی ہو نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَتَقَبَّلَ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ۔کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کی عبادت قبول فرماتا ہے جو متقی ہوں لیکن وہ شخص جو ایک مرسل من اللہ کو نہیں مانتا اور اس کی تکفیر و تکذیب کرتا ہے وہ متقی کیونکر ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا نماز تو ہم نے خدا کیلئے پڑھنی ہے نہ کسی شخص کیلئے۔میں نے کہا اسی لئے تو ہم غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نماز خدا کیلئے ادا کرنی ہے نہ کہ بندوں کو خوش کرنے کیلئے۔اگر ہم لوگوں کو خوش کرنا چاہتے تو منافقانہ طور پر ان کے پیچھے پڑھ لیتے لیکن ہم جو ان کے پیچھے نہیں پڑھتے تو اسی لئے کہ ہم نے نماز خدا کیلئے پڑھنی ہے نہ کہ بندوں کیلئے اور شریعت اسلامیہ کی رو سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کا امام احمدی ہونا چاہیے۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص جو مسیح موعود کو مانتا ہے اور دوسرا جو انکار کرتا ہے دونوں برابر ہیں؟ کہنے لگے کہ نہیں۔ہر ایک شخص کو ماننا چاہیے۔میں نے کہا شریعت کی رو سے امام وہی ہونا چاہیے جو زیادہ متقی ہو کہنے لگے اس سے تفرقہ اور اختلاف پیدا ہوگا۔میں نے کہا یہ تفرقہ ہر نبی کی بعثت پر پڑا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَانَ النَّاسُ أُمَةً وَاحِدَةً (البقره:214)۔پھر ان میں اختلاف ہوا اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیجے تو پھر ایک اختلاف ہوا بعض تو ہدایت پاگئے اور بعض نے انکار کر دیا۔پس انبیاء آتے تو اختلاف کو مٹانے کیلئے ہیں لیکن ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک اور تفرقہ پیدا کرتا ہے اور خبیث اور طیب