حیات شمس

by Other Authors

Page 379 of 748

حیات شمس — Page 379

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 363 لئے وقت مقرر تھا۔پریذیڈنٹ مسٹر فلمی تھے جو تمام اجلاسات میں شریک ہوئے۔انہوں نے اپنے آخری پریذیڈنشل ریمارکس میں میری سپیچ کے متعلق کہا کہ یہ تمام تقریروں سے زیادہ مرتب ، مدلل اور غور و خوض کے بعد تیار کی گئی ہے اور یہ ہندوستان میں صحیح پولیٹیکل پویش کو واضح کرتی ہے اور اس کاحل پیش کرتی ہے۔برٹش پریس میں خطوط عراق اور مسلمان کے عنوان کے ماتحت ایک میرا خط ٹائمنز آف لنڈن میں شائع ہوا اور ایک خط گریٹ برٹن اینڈ دی ایسٹ ہفتہ وار رسالہ میں ، جس میں میں نے اس بات پر تنقید کی تھی کہ عام لوگوں کے علاوہ پولیٹیکل لیڈر بھی یہ فقرہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں استعمال کرتے ہیں کہ ہم عیسائی تہذیب کے قیام کیلئے لڑ رہے ہیں۔حالانکہ ان کے پہلو بہ پہلو مسلمان اور دیگر مذاہب والے بھی لڑ رہے ہیں اس لئے ایسے فقروں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا استعمال بجائے مفید ہونے کے مشترکہ مفاد کیلئے مضر ہے۔سید ممتاز احمد صاحب کو سالانہ امتحان کے بعد ڈیڑھ ماہ کی رخصتیں ہوئیں۔انہوں نے پندرہ دن تبلیغ کیلئے دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ انہیں نیو کیسل بھیجا گیا جس کے مختلف بازاروں میں انہوں نے اڑھائی ہزار کے قریب اشتہارات تقسیم کئے۔موجودہ حالات کے مدنظر سب سے پہلے انہوں نے چیف انسپکٹر پولیس سے مسیح کی قبر ہندوستان میں کے اشتہار کی تقسیم کیلئے اجازت حاصل کی۔پولیس والوں نے بھی اشتہار پڑھا اور یہ اشتہارات رکھ بھی لئے۔ایک رومانیہ کے باشندہ نے جو وہاں بہت مدت سے مقیم ہے اشتہار پڑھ کر کہا کہ میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا تھا۔ان کی رپورٹ سے دو واقعات اس غرض سے ذکر کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہیں نہایت آزاد خیال کیا جاتا ہے ان میں بھی بکثرت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو نہایت تنگدل واقع ہوئے ہیں۔وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ ایک انگریز پمفلٹ پڑھتے پڑھتے دور نکل گیا۔پھر مڑ کر واپس آیا اور کہا کہ میں عیسائی ہوں میں ایسی تحریرات نہیں پڑھنا چاہتا یہ کہہ کر پمفلٹ واپس دے دیا اور فور اچلا گیا۔دوسری ایک نوجوان لڑکی بھی اشتہار پڑھنے کے بعد واپس آئی اور آکر کہنے لگی کیا میں تمہیں بتاؤں کہ میری اس پمفلٹ کے متعلق رائے کیا ہے میں سمجھتی ہوں کہ یہ تحریر بالکل لا یعنی ہے۔یہ کہہ کر اس نے پمفلٹ زمین پر پھینک دیا اور پیشتر اس کے میں اسے مزید تحقیقات کی طرف توجہ دلاتا وہ چل دی۔اس کے علاوہ انہوں نے کنگز کالج نیو کیسل کے ہندوستانی طالب علموں کی