حیات شمس — Page 368
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ނ مدبرین کو کھلے الفاظ میں بتایا کہ عربوں کے مطالبات پورے کئے جائیں۔نیز آپ نے عربوں کی کامیابی اور امت مسلمہ کی بہتری اور بہبودی کیلئے مزید دعائیں کیں اور عربوں کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس کے بعد سعودی عرب کے حافظ و ہبہ نے شاہ فیصل کی طرف جوابی تقریر کی جس میں شکریہ کے علاوہ پورے عالم اسلامی کی یگانگت اور اتحاد پر زور دیا۔رخصت ہونے سے پہلے شاہ فیصل اور دیگر عرب نمائندگان سے تمام انگریز نومسلموں کا تعارف کرایا گیا اور ایک نو مسلم مسٹر عبد الرحمن ہارڈی کی ساڑھے تین سالہ بچی نے انہیں کلمہ شریف لا اله الا الله محمد رسول الله اپنے مخصوص اور معصومانہ لہجہ میں کئی بار سنایا اور بعض مہمانوں سے انعام حاصل کیا۔شاہ فیصل نے روانگی سے قبل احمد یہ دارالتبلیغ کی وزیٹنگ بک دو پر جواب تک لندن مشن میں موجود ہے اپنے قلم سے ذیل کے الفاظ لکھے :۔لاثبات عندیّتی و شكرى لحضرة الامام و اعجابي بذكائه فيصل 66 352 اپنے موقف کے اثبات کیلئے اور محترم امام صاحب کے شکر یہ نیز امام صاحب کی فہم و ذکا پر خوشی کے اظہار کیلئے۔مؤلف ( روح پرور یادیں ، بار اول، لاہور: محمد لطیف انور ( ناشر )،1980ء۔صفحات 188-191) نوٹ : اس ملاقات کا ذکر سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ قادیان 1938ء - 1939 ء صفحات 56-57 پر بھی موجود ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب کی امیر فیصل سے جنوری 1944ء کی ملاقات کا ذکر 1944ء والے حصہ میں آئے گا۔مئی 1939 ء تا اپریل 1940ء کی مساعی پر ایک نظر از حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ) ستمبر 1939ء میں جنگ شروع ہو جانے سے تبلیغی کام میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔نوجوان طبقہ فوج میں بھرتی ہو گیا دوسرے بہت سے لوگ فیکٹریوں وغیرہ میں جہاں جنگی سامان تیار ہوتا ہے رات دن کام میں مشغول ہو گئے نیز جو سہولتیں جنگ سے پہلے میر تھیں وہ نہ رہیں تاہم مئی 1939ء سے اپریل 1940ء تک جو تبلیغی کام کیا گیا وہ نہایت اختصار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی نومسلموں کی زیادتی اور غیر مسلموں کو اسلامی مسائل کے متعلق